عظیم زندگی — Page 24
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وہ پکارنے والے کی پکار سُنتا ہے اور بندہ کو ہمیشہ یہ دُعا کرتے رہنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ ایسے اعمال بجالانے کی توفیق بخشے جن سے اب وہ مالک یوم الدین راضی ہوا اور یہ کہ اسی دنیا میں بہشت کا نور عطا ہوا اور جنت کا سکون ملے اس سلسلہ میں سورۃ فاتحہ کی اس آیت میں کس قدر گہرے معانی پنہاں ہیں : اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ آے ہمارے پروردگار ہمیں سیدھا راستہ دیکھا اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔صراط مستقیم ہی جرت کا راستہ ہے اور سالک کے لئے لازم ہے کہ وہ اس شاہراہ پر چلتا ہی چلا جائے اور یوں جنت کے باغوں میں دُور دُور تک پہنچ جائے میں حقیقی خوشی ہے اور درج ذیل دعا میں بندہ اپنے مولیٰ سے یہی چیزیں مانگتا ہے :۔اے اللہ میرے دل کو اور میرے کانوں کو نور سے بھر دے۔میری آنکھوں اور میری زبان پر نور جاری کر دے۔نور میرے دائیں ہو اور نور میرے بائیں ہو۔اور نور میرے اوپر ہو نور میرے نیچے ہو۔اور یوں کہ میں نور ہی میں ڈوب جاؤں۔شاید کوئی معترض یہ اعتراض کرے کہ جب انسان اس دنیا میں نت نئے دُکھوں اور تکلیفوں میں مبتلا رہتا ہے تو اسے جنت اور اس کا سکون کیسے ملے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ تکالیف کے در پردہ برکتیں ہوا کرتی ہیں اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ یہ مومن کے ایمان کی آزمائش اور اس کی ترقی کے لئے آیا کرتی ہیں اور اسی سے انسان کے عام اور ہمت کا پتہ چلتا ہے اگر انسان صبر و استقامت