عظیم زندگی — Page 23
۲۳ اپنا اشتہار ہے اور اگر وہ اپنی بہترین نمائش چاہتا ہے تو اسے اپنے اندر روحانی کمالات پیدا کرنے چاہئیں اور یہ عبادت سے ، نیک خیالات سے اور اعمال صالحہ سے ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔کسی نے کیا خوب کہا ہے اِنسان اپنے ہی خیالات کا مرقع ہوتا ہے نیکیوں اور بھلے کاموں پر سوچ و بچار آخر اعمال صالحہ کی جانب سے ہی جاتا ہے اور یہی وہ سنہرا طریق ہے جو روحانی شرور مہیا کرتا ہے اور روح کو جب لا بخشتا اور بہشتی حرارت مہیا کرتا ہے اور ایسا انسان جہاں بھی ہو گا اس کی جنت اس کے ساتھ ہو گی۔روحانی بلندی صرف گناہوں کے ترک کرنے سے نہیں ملتی بلکہ اعمال صالحہ سے اس لئے یہ لازمہ کا درجہ رکھتے ہیں۔نیکو کاری روحانی ترقی کا اہم جزو ہے۔اللہ تعالے قرآن مجید میں فرماتا ہے بَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وا فَعَلُوا الخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (۲۲:۴۸) اسے مومنور کوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور نیک کام کرو تا کہ تم اپنے مقصود کو پالو۔ایک باغبان اپنے چمن میں نہ صرف فلائی اور گوڈی کرتا ہے اور جڑی بوٹیاں نکالتا رہتا ہے بلکہ وہ رنگارنگ کے نئے نئے پھول پودے بھی لگاتا جاتا ہے تا اسکے باغ کی زینت میں اضافہ ہوتا رہے۔اسی طرح اگر اپنے من میں بہشتی باغ لگانا مقصود ہو تو صرف گھاس پھونس اور جڑی بوٹیاں اکھیڑنی ضروری نہیں بلکہ اس میں نیک خیالات کے نئے بیج بھی بونا ہوں گے جو اپنے وقت پر مبنی خصوصیات کے رنگ میں بار آور ہو جائیں گے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دعا جنت کی منجھی ہے اور