عظیم زندگی — Page 25
۲۵ سے ان آزمائشوں سے گذر جائے تو دونوں جہانوں میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا وارث بنتا ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَئُ مِّنَ الْخَونِ وَالْجُوعِ وَ نَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ هُ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۵ (۲ : ۱۵۶ ۱۵۷) اور ہم تمہیں کسی قدر خون اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی کے ذریعہ سے ضرور آزمائیں گے اور اسے رسول تو ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے جن پر جب بھی کوئی مصیبت آئے ( تو گھبراتے نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف کوٹنے والے پھر ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجْهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّبِرِينَ وَنَبْلُوا أَخْبَارَكُمْ ۵ (۳۲:۲۷) اور ہم تمہاری ضرور آزمائش کریں گے اس وقت تک کہ ہم تم سے خدا کی راہ میں جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور ہم تمہارے اندرونی حالات کی ضرور آزمائش کریں گے۔ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بات خوب کھول کر بیان کر دی ہے کہ اس زندگی کا سفر سہولتوں کا سفر نہیں۔فرمایا : لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدِه (٩٠ :٥)ہم نے یقیناً انسان کو رامین محنت بنایا ہے۔انسان کو آزمائشوں اور ابتلاؤں کے وقت مایوس اور خدا کا شا کی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ کمزوری اور خدا کی ناشکری کی علامت ہے۔نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ایک مومن کے لئے یہ دنیا خیر و برکت سے بھری ہوئی ہے اور ایک مومن اس کا شعور رکھتا ہے کیونکہ اگر وہ کامیابیوں سے ہمکنار ہو تو وہ مولیٰ کا شکر گزار ہوتا ہے اور یوں مزید انعامات کا وارث ہوتا ہے لیکن دوسری طرف اگر اسے آزمائش اور تکلیف کا سامنا ہو تو وہ اسے صبر سے برداشت کرتا ہے اور یوں بھی