عظیم زندگی — Page 19
۱۹ آئے تو شکوہ یا شکایت کی بجائے اس کا پورا پورا فائدہ اُٹھانا چاہیئے۔عموماً انسان کی آواز کے لہجہ سے اس کے موڈ کا پتہ چل جاتا ہے چاہیئے کہ ہم اپنی گفت گو میں بُرے الفاظ کے استعمال سے گلی پر ہیز کریں اور اچھے الفاظ استعمال کریں یقینا گفتگو کا طریق انسان کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔انسانی جس صرف اِس دُنیا کی ارتعاش کا ادراک رکھتی ہے لیکن اسے یہ استطاعت بھی عنایت کی گئی ہے کہ وہ آنے والی زندگی کی جھلک کا بھی اندازہ کرے اور یہی اس کے لئے بہت عجیب و غریب ہوتا ہے۔انسان سورج کی شدت حرارت برداشت کرنے کی تاب نہیں رکھتا لیکن اس کے باوجود وہ اس کی گرم شعاعوں سے لطف اندونی ہوتا ہے جن کا سورج کی حقیقی گرمی سے ذرا بھی مقابلہ نہیں بعینہ وہ ہشت جو انسان اس ورلی زندگی میں مشاہدہ کرتا ہے اس کا آنے والی زندگی کی جنت سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔شاید کوئی معترض یہ اعتراض کرے کہ جیسا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے اور حضرت نبی کریم صلعم نے بھی فرمایا ہے کہ انسان اگلی دنیا کی جنت کی نعماء کا اندازہ ہی نہیں کر سکتا اس لئے یہ قول اس ارشاد کے متضاد ہے کہ انسان اس ارمنی زندگی میں بھی جنت کے اثمار کا مشاہدہ کر سکتا ہے لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ آنے والی زندگی کے انعامات اس ورلی زندگی کی نعمتوں سے بدرجہا اعلیٰ اور ارفع ہوں گے قرآن کریم نے بھی اِس امر کو اِن الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ آخرت میں ملنے والے انعامات اس ارضی زندگی کے انعامات سے بدرجہا بہتر اور عمدہ ہوں گے اور وضاحت فرمائی کہ اگر چہ وہ بعینہ ایسے تو نہ ہوں گے لیکن ان دونوں میں مشابہت ضرور ہے۔قرآن کریم 3