عظیم زندگی — Page 18
IA عَلَيْهِم۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جبکہ انسان دنیا کے مصائب اور آلام سے دو چار ہے تو پھر وہ اس دنیا میں جنت کیسے ڈھونڈ ہے۔تو یا د رہے کہ تکالیف در اصل بچھی ہوئی نعمتیں ہیں۔مصائب سے ہی تو انسان کے ایمان کا اندازہ ہوتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَئُ مِّنَ الْخَوْنِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ من الأَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرتِ (۲:۱۵۶) خدا تعالیٰ نے اس دنیا کے سفر کو ہمارے لئے آسان نہیں بنایا چنانچہ ارشاد ربانی ہے کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنْسَانَ فِي كَبَدِ (۹۰:۵) مدعا اس کلام کا یہ ہے کہ ہمیں مصائب سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ایک امریکن مصنف نے کہا ہے کہ ہر تکلیف اور مصیبت میں کوئی نہ کوئی فائدہ یا اس سے زیادہ فائدہ پنہاں ہوتا ہے جس کا مطلب میرے خیال میں یہ ہے کہ انسان چاہے تو ہر مصیبت یا پریشانی سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔چارلس ڈارون جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان کا ارتقاء بندروں سے ہوا ہے وہ بیچارہ ہمیشہ کسی نہ کسی عارضے میں مبتلا رہتا تھا مگر آپ حیران ہوں گے کہ اس نے اپنی اس بیماری کا پورا پورا فائدہ اُٹھایا اس نے کہا ہے کہ ” اگر میں اتنا زیادہ بیمار اپنی زندگی میں نہ رہتا تو شاید ہمیں اتنا کام نہ کر سکتا جتنا کہ میں نے کیا ہے یہ در اصل بات تکلیف کی نوعیت ہے؟" کی نہیں بلکہ یہ انسان کا ذہنی رجحان ہے جو پریشانی کو ایک بڑی مصیبت میں تبدیل کر دیتا ہے مثلاً دو آدمیوں کو لے لو دونوں پر ایک قسم کی مصیبت پڑے ان میں سے ایک تو گھبرا جائے گا مگر دوسرا خاموش اور پرسکون رہے گا مصیبت تو ایک ہی تھی مگر اس کا رد عمل دو انسانوں میں مختلف ہے۔لاریب کوئی بھی انسان مصائب اور امتحانوں سے بالا نہیں ہر ایک کو ان کی توقع رکھنی چاہیے اور جب کوئی مصیبت