عظیم زندگی — Page 20
(۲:۲۶)۔فرماتا ہے وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ اَنَّ لَهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ كُلَّمَارُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأتُوا بِهِ مُتَشَابِهَا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيْهَا خَلِدُونَ۔اور تو ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں ان کو خوشخبری دے کہ ان کے لئے (ایسے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں جب بھی ان (باغوں ) کے پھل میں سے کچھ رزق انہیں دیا جائے گا وہ کہیں گے یہ تو وہی (رزق) ہے جو ہمیں اس سے پہلے دیا گیا تھا اور ان کے پاس وہ (رزق) ملتا جلتاں ایا جائے گا اور ان کے لئے ان (باغوں) میں پاک جوڑے ہوں گے اور وہ ان (باغوں ) کے اندر ہمیشہ لیں گے۔مذکورہ آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اگلی دنیا کے روحانی اثمار اگرچہ وہی نہیں مگر اسی دُنیا کے رُوحانی پھلوں کے مشابہہ ضرور ہیں۔یہ امر ذہن نشین رہنا چاہیے کہ جبت کے بارہ میں قرآن کریم کی تفصیلات استعارہ ہیں اور ان کا لفظی مطلب لینا درست نہیں باغات، دریا، اثمار ، شہد ، دودھ اور اسی قسم کی دوسری اشیاء جن کا ذکر جنت کے سلسلہ میں آتا ہے ان سے ہم سب واقف ہیں اور ان کے مطالب استعارہ ہی لئے جانے چاہئیں۔دودھ کا مطلب روحانی علوم لیا جاتا ہے نہروں سے مراد اعمال صالحہ ہیں انمار کا مطلب انعامات سے ہے وغیرہ وغیرہ۔اگلا جہان چھوٹے سے چھوٹے ایٹم کا بنا ہوا نہیں اس لئے وہاں کی اشیاء مادی نہیں اور نہ ہی اِس جہان کی نعمتوں کی طرح ہیں۔اِس سے بہتر کیا آرزو ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے اندر بیشتی اخلاق پیدا کر سے