عظیم زندگی — Page 17
16 مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتِن ( ۴۷ : ۵۵) بانی جماعتِ احمدیہ نے اس مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس میں دو جنتوں کی طرف اشارہ ہے ایک اسی دنیا میں ملنے والی جنت اور دوسری آنے والی دنیا ہیں۔خدا مومنوں کے دل اس دنیا میں صاف کرتا ان کو تسلی اور تقویت دیتا ہے اور یہ حالت اس دنیا میں جنت کے برابر ہے۔ارشادِ ربانی ہے نَحْن أو ليؤكم في الحيوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ (٣:٣٣) ہم تمہارے (۴۱:۳۲ راس زندگی میں بھی اور آنے والی زندگی میں بھی دوست ہیں۔لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوة الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ ( ۱۰:۲۵ ) ان کے لئے اِس دُنیا میں بھی اور بعد میں آنے والی ( :١٠) دنیا میں بھی بشارت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کی نعمتیں ایسی ہیں کہ انسانی آنکھ اور دماغ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔آپ نے فرمایا " جنت کی نعمتیں ایسی اشیاء ہیں جن کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا کان نے نہیں سنا اور دماغ نے کبھی نہیں سوچا یہ بات قرآن مجید سے بھی ثابت ہے : فَلَا تَعلَمُ نَفْسٌ مَّا اخْفى لَهُمْ مِنْ قُرَّةٍ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔(۳۲:۱۸) اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو ایسی میں ہی نہیں دی گئی جس سے وہ آنے والی زندگی کو پہچان سکے یا اس کا حقیقی اندازہ لگا سکے۔بانی اسلام حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا کہ دعا جنت کی کنجی ہے اور قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ جو دعا کرتا ہے خدا اس کی دُعا کو سنتا ہے یہ دعا زبر دست معنی کی حامل ہے۔امید کا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ العنت i