اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 248 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 248

الذكر المحفوظ 248 قرآن کریم کی ترتیب بیان باعتبار ظاہر ترتیب کے ضمن میں ایک یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم واقعات اور مضامین کو ان کی ظاہری ترتیب سے بیان نہیں کرتا۔ابن وراق بھی خوب نمک مرچ لگا کر یہ اعتراض بیان کرتا ہے۔مضامین کی ترتیب کے بارہ میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایک غیر معمولی حسنِ ترتیب ہے۔ظاہری ترتیب کی ایک اور مثال درج کی جاتی ہے: حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقویٰ کے قرآن کریم کی علت غائی ہونے کی وضاحت فرماتے ہوئے قرآن کریم کی ترتیب بیان فرماتے ہیں: پھر دیکھو کہ تقویٰ ایسی اعلیٰ درجہ کی ضروری شے قرار دیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی علت غائی اسی کو ٹھہرایا ہے چنانچہ دوسری سورۃ کو جب شروع کیا ہے تو یوں ہی فرمایا ہے: الم ذلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقره:3-2 ) میرا مذ ہب یہی ہے کہ قرآن کریم کی یہ ترتیب بڑا مرتبہ رکھتی ہے۔خدا تعالیٰ نے اس میں علل اربعہ کا ذکر فرمایا ہے۔علت فاعلی، مادی ،صوری، غائی۔ہر ایک چیز کے ساتھ یہ چارہی علل ہوتی ہیں۔قرآن کریم نہایت اکمل طور پر ان کو دکھاتا ہے۔آلم اس میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بہت جاننے والا ہے۔اس کلام کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا ہے۔یعنی خدا اس کا فاعل ہے۔ذلِكَ الكتب یہ مادہ بتایا۔یا یہ کہو کہ یہ علت مادی ہے۔علت صوری لَا رَيْبَ فِيهِ ہر ایک چیز میں شک وشبہ اور ظنون فاسدہ پیدا ہو سکتے ہیں۔مگر قرآن کریم ایسی کتاب ہے کہ اس میں کوئی ریب نہیں ہے۔لا ریب اسی کے لیے ہے۔اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی شان یہ بتائی ہے کہ لَا رَيْبَ فِيهِ۔تو ہر ایک سلیم الفطرت اور سعادت مند انسان کی روح اچھلے گی اور خواہش کرے گی کہ اس کی ہدایتوں پر عمل کرے۔لملفوظات جلد اول صفحہ 282) اب دنیا کی کوئی مذہبی کتاب اُٹھا کر دیکھ لیں۔اس خوبصورتی اور جامعیت سے اپنا مقصد بیان نہیں کرتی۔واقعات کے بیان میں تاریخ کے اعتبار سے ترتیب نہ ہونے کے بارہ میں بھی اعتراض کیے جاتے ہیں۔اب یہ اعتراض وہی شخص کرے گا جو دعوئی خواہ کچھ بھی کرتا ہو مگر قرآن کریم کے بارہ میں یہ سمجھ ہی نہیں سکا کہ یہ کوئی تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔مگر پھر بھی قرآن کریم کا غیر معمولی اعجاز ہے کہ ترتیب مضمون کو بھی نہیں چھوڑتا اور واقعات کو بھی اُن کی ظاہری ترتیب کے لحاظ سے مضمون میں پروتا چلا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلہ میں راہنمائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یادر ہے کہ عام محاورہ قرآن کریم کا ہے اور صدہا نظیریں اس کی اس پاک کلام میں موجود ہیں کہ ایک دنیا کے قصہ کے ساتھ آخرت کا قصہ پیوند کیا جاتا ہے اور ہر ایک حصہ کلام کا اپنے قرائن سے