اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 247
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 247 میں بھی ملحوظ رہے۔کلام بلیغ کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ نظام کلام کا نظام طبعی کے ایسا مطابق ہو کہ گویا اسی کی عکسی تصویر ہو اور جو امر طبعاً اور وقوعاً مقدم ہو اس کو وضعا بھی مقدم رکھا جائے۔سو آیت موصوفہ میں یہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت ہے کہ باوجود کمال فصاحت اور خوش بیانی کے واقعی ترتیب کا نقشہ کھینچ کر دکھلا دیا ہے اور وہی طرز بیان اختیار کی ہے جو کہ ہر یک صاحب نظر کو نظام عالم میں بدیہی طور پر نظر آرہی ہے۔کیا یہ نہایت سیدھا راستہ نہیں ہے کہ جس ترتیب سے نعماء الہی صحیفہ فطرت میں واقعہ ہیں۔اسی ترتیب سے صحیفہ الہام میں بھی واقعہ ہوں۔سوایسی عمدہ اور پر حکمت ترتیب پر اعتراض کرنا حقیقت میں انہیں اندھوں کا کام ہے جن کی بصیرت اور بصارت دونوں یکبارگی جاتی رہی ہیں۔(براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 444 حاشیہ نمبر 11) ایک کو تاہ بین معترض کہہ سکتا ہے کہ یہ کیا کہ زمین پر کہیں پہاڑ ہیں کہیں میدان ، کہیں سبزہ زار ہیں اور کہیں ریگزار ؟ مگر علوم ارضیات کے ماہر تحقیقات کے بعد اس زمین پر جاری نظام کی کامل ترتیب اور توازن کے قائل ہیں۔یہی حال باقی کا ئنات کا ہے۔ایک ناواقف کے نزدیک ستاروں وغیرہ میں کوئی ترتیب نہیں ہے۔مگر astronomy والے ان ستاروں کے نظام کے توازن کے بارے میں ایسے ایسے حقائق آشکار کر چکے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ ایسا کامل اور مکمل اور با رابط نظام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن کریم کے بیان فرمود تخلیق عالم جسمانی کے مراحل کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عالم جسمانی اور عالم روحانی خدا تعالیٰ کی تخلیق ہے اور ان میں کامل تطابق ہے اسی طرح قرآن کریم کا اسلوب بیان بھی عالم جسمانی اور عالم روحانی کے مراتب ستہ کے عین مطابق ہے۔کیونکہ قرآن کریم خدا کا قول ہے اور عالم جسمانی اور عالم روحانی خدا کا فعل ہیں اور خدا کے قول وفعل میں تطابق ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تخلیق کائنات کے چھے مراحل اور انسان کی جسمانی تخلیق کے چھے مراحل کو وضاحت سے بیان فرما کر ان کی انسان کی روحانی تخلیق کے چھے مراحل سے مطابقت کی وضاحت فرماتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحه 172 تا 211 حاشیه در حاشیہ ) اور پھر یہ ثابت فرماتے ہیں کہ کلام الہی بھی اس نظام ترتیب پر مشتمل ہے۔گویا ایک جسمانی عالم ہے اور ایک روحانی عالم ہے اور ایک عالم کلامِ الہی ہے اور ان کا نظام ترتیب ایک دوسرے کے مشابہ ہے۔چنانچہ ایک جگہ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: دیکھو خدا تعالیٰ کے نظام شمسی میں کیسی ترتیب پائی جاتی ہے اور خود انسان کی جسمانی ہیکل کیسی ابلغ اور احسن ترتیب پر مشتمل ہے پھر کس قدر بے ادبی ہوگی اگر اس احسن الخالقین کے کلمات پر حکمت کو پراگندہ اور غیر منتظم اور بے ترتیب خیال کیا جائے۔تریاق القلوب - روحانی خزائن۔جلد 15 صفحہ 457-456 حاشیہ )