اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 188 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 188

الذكر المحفوظ 188 یعنی ہم رسول کریم کے عہد مبارک میں ٹکڑوں پر قرآن کریم تالیف کیا کرتے تھے۔علامہ سیوطی لکھتے ہیں: و اخرج عن ابن وهب قال سمعت مالكا يقول انما الف القرآن على ما كانو يسمعون من النبي ﷺ (وقال) بغوى في شرح السنة لصحابه رضی الله عنهم جمعوا بين الدفتين القرآن الذي انزله الله على رسوله من غير ان زادوا او نقصوا منه شيئا خوف ذهاب بعضه بذهاب حفظته فكتبوه كاملا كما سمعوا من رسول الله ﷺ من غير ان قدموا شيئا او اخروا او وضعوا له ترتيبا لم يأخذوه من رسول الله ﷺ و كان الرسول الله الله يلقن اصحابه ويعلمهم ما نزل عليه من القرآن على الترتيب الذي هو الآن في مصاحفنا بتوقيف جبريل اياه۔۔۔فثبت ان سعی الصحابه كان في جمعه في موضع واحد لا في ترتيبه (اتقان في علوم القرآن: نوع ثامن عشر جمعه و ترتيبه، فصل سوم صفحه 61) وھب سے روایت ہے کہ انہوں نے مالک کو یہ کہتے سنا کہ قرآن کریم اُسی ترتیب پر ہوئی ہے جس پر (صحابہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنتے تھے۔علامہ بغوی سے شرح السنتہ میں لکھا ہے کہ صحابہ نے قرآن کریم کو اُسی ترتیب سے مجلد صورت دی تھی جس ترتیب سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا تھا۔انہوں نے نہ تو اس میں کوئی تقدیم و تاخیر کی اور نہ ہی اپنی طرف سے کوئی ایسی ترتیب لگائی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سیکھی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو اسی ترتیب کی تلقین کیا کرتے تھے اور وہی ترتیب سکھایا کرتے تھے جو آج بھی ہمارے مصاحف میں پائی جاتی ہے اور جو آپ نے جبریل کی وساطت سے سیکھی تھی۔پس یہ امر ثابت شدہ ہے کہ صحابہ کی جمع قرآن کی کوشش کا تعلق ایک جگہ جمع کرنے سے تھا اور ترتیب سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔پھر لکھتے ہیں : و اخرج ابن داشتة في كتاب المصاحف من طريق ابن وهب عن سلیمان بن بلال قال سمعت ربيعة يسأل لم قدمت البقرة وآل عمران و قد نزل قبلهما بضع و ثمانون سورة بمكة و انما انزلتا بالمدينة فقال قدمتا