اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 187
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 187 بِرَبِّ النَّاسِ (بخاری کتاب تفسیر القرآن باب فضل المعوذتين) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے ہاں ہوتے تو ہر رات سوتے وقت بستر پر لیٹ کر ہمیشہ اپنی ہتھیلیوں پر قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھ کر پھونکتے۔بخاری میں ایک مشہور واقعہ درج ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ایک صحابی نے نماز پڑھاتے ہوئے سورۃ بقرہ کی تلاوت شروع کی پھر وہ ختم ہوئی تو سورۃ آل عمران شروع کر دی۔(بخاری کتاب الصلوۃ) وہ صحابی اسی ترتیب سے سورتیں پڑھ رہے تھے جو کہ آج بھی رائج ہے۔پھر وہ مشہور واقعہ ہے کہ جب ایک صحابی ام کلثوم بن الہدم نماز پڑھاتے ہوئے سورۃ الفاتحہ کے بعد کسی بھی سورت کی تلاوت سے قبل سورۃ الاخلاص کی تلاوت کیا کرتے تھے۔اُن کو صحابہ نے ٹوکا۔(صحیح بخاری کتاب الاذان باب الجمع بين السورتين في ركعة) حافظ ابن حجر عسقلانی اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ: ان صنيعه ذلك خلاف ما الفوه من النبي (فتح الباری شرح بخاری کتاب الاذان باب الجمع بين السورتين في ركعة) یعنی اُن کا یہ فعل اس ترتیب کے خلاف تھا جو صحابہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں ترتیب قرآن کا اس لحاظ سے خاص خیال رکھا جاتا تھا کہ تلاوت کے وقت بلا وجہ ترتیب سور کو نہ بدلا جائے۔پھر قرآن کے تحریر کرنے کے بارہ میں احادیث میں تالیف کا ذکر ملتا ہے۔چنانچہ کتب حدیث میں کثرت سے قرآن کریم کی تالیف کے ابواب درج کیے گئے ہیں۔مثلاً بخاری میں کتاب مجمع القرآن باب تالیف القرآن میں امام بخاری نے مختلف روایات درج کی ہیں جن میں رسول کریم کے زمانہ میں تالیف قرآن کا ذکر ہے۔عربی میں تالیف سے مراد ہے ترتیب سے جمع کرنا۔پس امام بخاری کا اپنی صحیح میں پورا ایک باب اس موضوع پر باندھنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کے نزدیک ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی ایک ترتیب ضرور تھی۔رمضان میں جبریل کے ساتھ قرآن کریم کی دہرائی کا ذکر بھی اسی باب کے تحت کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے نزدیک بھی اس دہرائی کی ایک خاص ترتیب تھی۔قرآن کے بارہ میں تالیف کا لفظ حضرت امام بخاری نے ہی پہلی مرتبہ استعمال نہیں کیا بلکہ کاتب وحی حضرت زید بن ثابت بھی یہی لفظ اپنی ایک روایت میں استعمال کرتے ہیں: كنا عند رسول الله ﷺ نؤلف القرآن في الرقاع (ترمزی کتاب المناقب عن رسول الله باب في فضل الشام و اليمن) (الاتقان: الجزء الاول ؛ النوع الثامن عشر ؛ جمع القرآن و ترتيبه ، صفحه:58) (تفسير روح المعانى جزء اول صفحه 21 مكتبه امدادیه ملتان)