اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 189
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 189 و الف القرآن على علم ممن الفه به و من كان معه فيه و اجتماعهم على علمهم بذلك فهذا مما ينتهى اليه ولا يسل عنه اتقان في علوم القرآن نوع ثامن عشر جمعه و ترتیبه، فصل سوم صفحه 63) ابن داشتہ نے کتاب المصاحف میں ابن وہب کے حوالہ سے سلیمان بن بلال سے روایت کی ہے کہ میں نے ربیعہ سے کسی کو یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ بقرۃ اور ال عمران کی سورتیں کیوں مقدم کی گئیں حالانکہ اس سے پہلے مکہ میں اسی (80) سے زائد سورتوں کا نزول ہو چکا تھا اور یہ دونوں مدینہ میں آکر نازل ہوئیں؟ ربیعہ نے جواب دیا ” قرآن کی تالیف ان لوگوں کے علم پر ہوئی ہے جو اس کے مؤلف کے دیکھنے والے اور اس کی تالیف میں مؤلف کے ساتھ موجود تھے اور ان لوگوں کا اس کا علم رکھنے کے ساتھ اس پر اجماع بھی ہو گیا تھا۔لہذا یہی بات اس بارہ میں کافی ہے اور اس سے زیادہ سوال کرنا غیر ضروری ہے۔مشہور شیعہ مفسر ابو فضل بن الحسن الطمرسی اپنی کتاب مجمع البیان میں علامہ مرغی کا قول اپنی تحقیق کی تائید میں پیش کرتے ہیں کہ : وكذالك القول في كتاب المزني۔۔۔۔۔ان القرآن علی عہد رسول الله (ص) مجموعا مؤلفا على ما هو عليه الان واستدل على ذلك بان القرآن كان يدرس ويحفظ جميعه في ذلك الزمان حتى عين عليه جماعة من الصحابه في حفظهم له وانه كان يعرض على النبي (ص) و يتلى عليه الأن جماعة من الصحابة مثل عبد الله بن مسعود و أبي بن كعب و غيرهما ختمو القرآن على النبي (ص) عدة ختمات و كل ذلك يدل بادنی تامل على انه كان مجموعا مرتبا غير مبتور ولا مبثوت و ذكر ان من خالف في ذالك من الامامية و حشويه لا يعتد بخلافهم فان الخلاف في ذلك مضاف الى قوم من اصحاب الحديث نقلو اخبارا ضعيفة۔(ابوالفضل بن الحسن الطبرسی مجمع البیان جلد اول: مقدمة الكتاب: الفن الخامس صفحه 15 الناشر مكتبه علميه الاسلاميه ملتان) یعنی اسی کے مطابق علامہ مزنی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔۔۔۔کہ قرآن کریم دراصل رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں ہی جمع ہو گیا تھا اور اسی طرح تالیف ہو گیا تھا جیسا کہ آج کے دور میں ہے اور اس پر یہ دلیل ہے کہ قرآن مجید مکمل و مجموعی طور پر اس زمانہ میں پڑھا