اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page x of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page x

الذكر المحفوظ X ساتھ ہم دشمنان اسلام کے ان وساوس کا جواب بھی ڈھونڈیں گے جو وہ اس کی حفاظت کے موضوع پر عام قاری کے دل میں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔زیر نظر کاوش میں حفاظت قرآن کے ذرائع کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ اس موضوع پر اُٹھنے والے اہم سوالات اور دانستہ طور پر نا واقف لوگوں کے دلوں میں پیدا کیے جانے والے شبہات کے ازالہ کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے اور اس ضمن میں 1995 میں سامنے آنے والی ایک گمنام معترض کی کتاب WHY I AM NOT A MUSLIM میں حفاظت قرآن کے موضوع پر اُٹھائے جانے والے بنیادی اعتراضات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔اس گمنام معترض نے اپنا قلمی نام ابن وراق رکھا ہے۔معترض کی کتاب کے ضمن میں یہ عرض کردوں کہ مصنف کے نا معلوم ہونے اور کتاب کے انداز سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ابن وراق ایک خیالی اور تصوراتی شخصیت ہے جبکہ یہ کتاب کسی کمیٹی کی مرتبہ ہے اور عین ممکن ہے وہ کمیٹی عیسائیوں کی بنائی ہوئی ہو۔کیوں کہ کتاب میں زیادہ تر عیسائی مصنفین کے حوالہ سے بات کی گئی ہے۔اس پر ایک قرینہ یہ بھی قائم ہوتا ہے کہ حقیقت میں ابن وراق ایک مسلمان محقق اور عالم تھے جو کہ نویں صدی میں پیدا ہوئے اور انہوں نے عیسائیت پر گراں قدر علمی کام کیا اور عیسائیت کے عقائد کی حقیقت ظاہر کی۔شائد اسی تعلق میں آج ابن وراق کے نام سے ایک خیالی پتلا گھڑا گیا ہے (واللہ اعلم ) لیکن اس کوشش میں کتاب میں حقائق کے نام پر باتیں بھی خیالی ہی پیش کر دی گئی ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔یہ انداز نیا نہیں۔متعصب دشمن اسلام دشمنی میں ایسے ہتھکنڈے بہت پہلے سے ہی اختیار کرتے آئے ہیں۔اہل اسلام ہر زمانہ میں ایسے خناس صفت دشمن کے حملوں کا جواب دیتے رہے ہیں۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے بھی دفاع اسلام میں ایسے دشمنوں کے دانت کھٹے کیے جو چھپ کر وار کرنا چاہتے تھے۔پھر بیسویں صدی کے شروع میں جماعت احمدیہ کی طرف سے دفاع اسلام میں جاری کیے گئے ایک انقلابی انگریزی رسالہ Review of Religions کے جنوری 1904 کے شمارہ میں بھی ایک گمنام پادری کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو چھپ کر اسلام پر حملہ کرتا ہے۔پھر اسی رسالہ کے 1907 کے ایک اردو شمارہ میں بھی ایک ایسے عیسائی کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو اپنا نام ظاہر کیے بغیر اعتراضات کرتا ہے۔عین ممکن ہے کہ ہر دشمن اسلام جو اسلامی تعلیمات سے آگاہ ہے، جب بھی بے جا بغض اور دشمنی کی راہ سے اعتراض کرے تو اس کے لیے سب سے آسان یہی راہ ہو کہ اعتراض کرتے ہوئے دُنیا کی نظروں سے خود کو چھپالے تا کہ اپنے لچر اعتراضات کے جواب کے بعد ملنے والی ذلت اور نکبت سے بچ سکے لیکن خصوصیت سے یہ مزاج عیسائی معترضین کا ہے اور سورۃ الناس میں درج پیشگوئی مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ہ کی صداقت کا