اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page xi of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page xi

xi منہ بولتا ثبوت ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ جس طرح تمام مذاہب کے اہل علم تحقیق و جستجو کے بعد اب یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ یہ مذاہب اب اصل پیغام بھلا چکے ہیں اسی طرح دُشمنانِ اسلام چاہتے ہیں کہ اسلام کے بارہ میں بھی ایسے اہل علم مل جائیں جو یہ ثابت کر دیں کہ اسلام بھی اپنے اصل کو کھو چکا ہے۔لیکن جب انہیں ایسے مسلمان علماء نہیں ملتے تو شکوک پیدا کرنے کے لیے مسلمان کہلانے والوں میں سے ایسے جہلاء کی تلاش میں رہتے ہیں جو اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہوں اور زبان درازی ، بلا ثبوت الزام تراشی اور ہرزہ سرائی میں اُن کے مددگار ہو سکیں۔ابن وراق کا تعارف یہ کرایا گیا ہے کہ موصوف جے پورا نڈیا میں پیدا ہوئے اور پھر پاکستان تشریف لے آئے یہاں سے Scottland تشریف لے گئے اور وہاں کسی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔مذہباً مسلمان ہیں اور شیعہ فرقہ کے کسی مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔کتاب کے مطالعہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ مصنف یا کمیٹی نے مختلف مستشرقین کی کتب میں سے صرف اعتراضات کو اکٹھا کیا ہے۔یہ قلعی بھی کھل جاتی ہے کہ اسلام کے بارہ میں مختلف مستشرقین اور متقین کی تحقیقات میں سے اپنے مطلب کا حصہ چن لیا گیا اور پورے شد ومد کے ساتھ پیش کیا گیا۔جہاں جہاں تبصرہ کیا ہے وہاں دیانت داری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتہائی غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے۔کتاب کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مقصد تنقیدی تحقیق نہیں اور نہ ہی حق کی تلاش مقصود ہے بلکہ کتاب کا مقصد عام قاری کو ایسی بحثوں میں اُلجھانا ہے جن سے وہ شکوک و شبہات کی دلدل میں پھنس کر حق اور سچ کی جستجو سے ہی ہاتھ کھینچ لے۔اسلام کے علاوہ تمام دیگر مذاہب کے مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تاریخی طور پر بہت کمز ور اور غیر مستند ہونے کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور حتمی طور پر کچھ علم نہیں ہوتا کہ اصل تعلیمات کیا تھیں۔ہر طرف انسانی دست بُرد کی کارستانیاں ہی نظر آتی ہیں اور غور وفکر کرنے والا قاری شکوک وشبہات کی دلدل میں گرفتار ہوتا چلا جاتا ہے۔اب ایک چالا کی یہ کی جارہی ہے کہ کسی بھی طرح ان شکوک و شبہات کے سیلاب تند کا رخ اسلام کی طرف موڑ دیا جائے۔چنانچہ سادہ لوح لوگوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جو دوسرے مذاہب کا حال ہے وہی اسلام کا حال ہے اس لیے دو ہی راستے ہیں۔یا تو اپنے مذہب سے ہی چھٹے رہو خواہ وہ کیسا ہی ہے کیونکہ اسلام میں بھی تمہیں یہی کچھ ملے گا اور کچھ زیادہ نہیں ملے گا۔دوسرا رستہ یہ ہے کہ مذہب سے ہی کنارہ کش ہو جاؤ۔جبکہ حقیقت میں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے اور اسلام کے معاملہ میں بقول Bosworth Smith نہ تو کوئی شخص خود کو جل اور فریب میں مبتلا کر سکتا ہے اور نہ کسی اور کو۔موجودہ دور میں ایک یہی مذہب ہے جو بالکل محفوظ ہے اور اسی کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی مقصدِ زیست حاصل کیا جاسکتا ہے۔دشمنان اسلام کی یہ کوشش بذات خود اس بات کا ثبوت بھی ہے یہ جنگ بین المذاہب بے شک ہے لیکن اصل