اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 65 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 65

عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 65 و قيل المراد به القلة أو نفى النسيان رأسا (علامه مجلسی: بحار الانوار جزء ۱۸ صفحه ١٧٤ باب : ١، المبعث و اظهار الدعوه و ما لقى۔۔۔ایڈیشن ٤ مكتبه مؤسسة الوفاء بيروت لبنان ٥١٤٠٤ بمطابق 1983) یعنی اس سے مراد قلت یا بھولنے کے بارہ میں ہر قسم کی نفی ہے۔صاحب کشاف علامہ زمخشری نے اس آیت کی تفسیر میں یہی مضمون بیان فرماتے ہیں۔حضرت امام رازی آیت سَنُقْرِئُكَ فَلا تنسی کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یہ تو ایک بشارت الہی تھی جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئی۔خدا تعالیٰ آپ سے فرماتا ہے کہ اے محمد ! میں تجھے ایسے حال میں رکھوں گا کہ تو اس قرآن کو بھول ہی نہ سکے گا۔(تفسير كبير لامام رازى الجزء 31 تفسير سورة الاعلى: 7,8) پس سَنُقْرِئُكَ فَلا تَنْسَى إِلَّا مَا شَاءَ الله (الاعلیٰ : 7,8) سے مراد ہے کہ اللہ تجھے پڑھائے گا اور اس کے نتیجے میں تو ہر گز نہیں بھولے گا اور یہ خیال کہ بشری کمزوری کی وجہ سے انسان بھول سکتا ہے، بجا ہے لیکن ایسا ہوگا نہیں کیونکہ جب کوئی کام خدا تعالیٰ کے زیر نگرانی اور اس کے ارادہ کے مطابق ہورہا ہو تو پھر وہ بشری کمزوریوں کو اپنے ارادہ کے پورا کرنے کی راہ میں روک نہیں بنے دیتا۔اس سے یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ وہ قراء تیں جو قرآن کریم کی اشاعت اور معارف و معانی کے سمجھنے کے لیے وقتی طور پر ضروری ہیں وہ ضرورت پورا کرنے کے بعد بھلا دی جائیں گی۔(حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب) اس میں بھلا اعتراض کی گنجائش کہاں سے آگئی ؟ متن تو وہی رہے گا جو ہے اور جس کی محافظت قیامت تک کے لیے ایک فیصلہ کن امر ہے۔إِلَّا مَا شَاءَ اللہ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ 'ہاں یہ ایسے ہوگا جیسے کہ اللہ چاہتا ہے۔اور یہ قرآن مجید میں واضح طور پر بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی حفاظت چاہتا ہے اور یہ کام اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ۔(الحجر: 10 ) یعنی یقیناً ہم ہی نے اس ذکر کو نازل کیا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور یہ وعدہ بھی قرآن کریم میں ہی درج ہے کہ: إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَ قُرْآنَهُ(القيامة : 18) یعنی اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت یقیناً ہمارے ہی ذمہ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدہ کے مطابق دُنیاوی لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حفاظت قرآن