اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 64
الذكر المحفوظ 64 گزشتہ صفحات میں ہم یہی حقیقت تاریخی حقائق کی روشنی میں دیکھتے آئے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے حفاظت کے اس وعدہ کو کس شان سے پورا کیا اور اپنے شدید القوئی ہونے کا کیسا عظیم الشان ثبوت دیا۔پس یہ شبہ إِلَّا مَا شَاءَ اللہ کے عربی محاورہ کونہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔عربی زبان میں الا ماشاء اللہ اور الا قلیل دومحاورے ہیں جن کا مطلب یا تو یہ ہوتا ہے کہ ایسا ہونے کا امکان بہت ہی کم ہے یا یہ کہ ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔اب جب خدا تعالیٰ نے ایک معاملہ براہ راست اپنے ہاتھ میں لیا ہے تو لازماً اس محاورہ کا یہی مطلب اخذ کیا جائے گا کہ اس میں ادنیٰ سی کوتاہی بھی محال ہے۔یہ مطلب کیوں کر لیا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم کا جمع اور محفوظ کرنا اور اسے تیری یادداشت سے محو نہ ہونے دینا یہ خدا کا کام ہے اور خدا تعالیٰ یہ ذمہ داری نبھائے گا ہاں اگر کوئی کوتا ہی ہوگئی تو کچھ کہا نہیں جا سکتا۔یہ تو ایک غیر منطقی نتیجہ ہے کیونکہ حفاظت قرآن کا معاملہ خدا تعالیٰ کے زیر نگرانی انجام پایا ہے اور خدا کی طرف سے کسی غلطی یا کوتاہی یا کمزوری سرزد ہونا_ اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔اگر کوتا ہی سے مرا د رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشری کمزوری لی جائے تو پھر بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ وحی الہی میں سے کچھ نہیں بھولیں گے کیونکہ خدا کا ارادہ وحی کو محفوظ کرنے کا ہے اور کوئی ادنیٰ بشری کمزوری خدا کے راستے میں روک نہیں بن سکتی۔پس یا تو آپ کلام الہی میں سے کچھ بھی نہیں بھولیں گے۔یا اگر آپ بتقاضائے بشریت کبھی کچھ بھولیں گے تو آپ کی بھول خدا کے ارادہ حفاظت کی راہ میں روک نہیں بن سکے گی۔پس وہ ضرور آپ کو یاد کروادے گا۔پس اس کے معنے یہ ہونگے کہ قرآن کریم کا جمع اور محفوظ کرنا اور اسے تیری یاداشت سے محو نہ ہونے دینا یہ خدا کا کام ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہ ممکن نہیں۔چنانچہ مفسرین نے کثرت سے یہ معنے بیان کیے ہیں۔مشہور اوراہم شیعہ تفسیر بحارالانوار میں لکھا ہے: ” اما قوله " إِلَّا مَاشَاءَ الله “ ففيه احتمالان - احدهما ان يقال هذه الاستثناء غير حاصل في الحقيقة و أنه لم ينس بعد نزول“ (علامه مجلسی: بـجــار الانوار جزء ۱۷ صفحه ۹۷ باب ١٦ سهوه و نومه عن الصلواة ایڈیشن ٤ مكتبه مؤسسة الوفاء بيروت لبنان ٥١٤٠٤ بمطابق (1983) یعنی جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس قول " إِلَّا مَا شَاءَ اللہ “ کا تعلق ہے تو اس میں دو احتمال پائے جاسکتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ در حقیقت استثناء غیر حاصل ہے۔یعنی ایسا استثناء کیا گیا ہے جو کبھی حقیقت میں ہوا ہی نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نزول قرآن کے بعد کبھی متن قرآن میں سے کچھ نہیں بھولے اور تاریخ کی گواہی بھی اسی کے حق میں ہے۔ایک دوسری جگہ علامہ مجلسی علامہ بیضاوی کا موقف بھی اپنے مؤقف کی تائید میں بیان کرتے ہیں :