اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 328
الذكر المحفوظ 328 جو چراہ گاہ کے پاس واقع تھا تو ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ تو (ایک دن ) یقیناً انہیں ان کی اس کارستانی سے آگاہ کرے گا اور انہیں کچھ پتہ نہ ہوگا (کہ تو کون ہے )۔۱۷ اور رات کے وقت وہ اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔۱۸۔انہوں نے کہا اے ہمارے باپ ! یقیناً ہم ایک دوسرے سے دوڑ لگاتے ہوئے ( دُور ) چلے گئے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا پس اسے بھیڑیا کھا گیا اور تو کبھی ہماری ماننے والا نہیں خواہ ہم بچے ہی ہوں۔۱۹۔اور وہ اس کی قمیص پر جھوٹا خون لگا لائے۔اس نے کہا بلکہ تمہارے نفوس نے ایک بہت سنگین بات تمہارے لیے معمولی اور آسان بنادی ہے۔پس صبر جمیل ( کے سوا میں کیا کر سکتا ہوں ) اور اللہ ہی ہے جس سے اس (بات) پر مدد مانگی جائے جو تم بیان کرتے ہو۔۲۰۔اور ایک قافلہ آیا اور انہوں نے اپنا پانی نکالنے والا بھیجا تو اس نے اپنا ڈول ڈال دیا۔اس نے کہا اے ( قافلہ والو) خوشخبری! یہ تو ایک لڑکا ہے اور انہوں نے اسے ایک پونجی کے طور پر چھپالیا اور اللہ اسے خوب جانتا تھا جو وہ کرتے تھے۔۲۱۔اور انہوں نے اسے معمولی قیمت چند دراہم کے عوض فروخت کر دیا اور وہ اس کے بارہ میں بالکل بے رغبت تھے۔۲۲۔اور جس نے اُسے مصر سے خریدا اپنی بیوی سے کہا اسے عزت کے ساتھ ٹھہراؤ۔ہوسکتا ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا بنالیں اور اس طریقہ سے ہم نے یوسف کے لیے زمین میں جگہ بنادی اور ( یہ خاص انتظام اس لیے کیا ) تا کہ ہم اسے معاملات کی تہ تک پہنچنے کا علم سکھا دیں اور اللہ اپنے فیصلہ پر غالب رہتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔۲۳۔اور جب وہ اپنی مضبوطی کی عمر کو پہنچا تو اسے ہم نے حکمت اور علم عطا کئے اور اسی طرح ہم احسان کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔۲۴۔اور اُس عورت نے جس کے گھر میں وہ تھا اسے اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانے کی کوشش کی اور دروازے بند کر دیئے اور کہا تم میری طرف آؤ۔اس (یوسف) نے کہا خدا کی پناہ! یقیناً میرا رب وہ ہے جس نے میرا ٹھکانا بہت اچھا بنایا۔یقیناً ظالم کا میاب نہیں ہوا کرتے۔۲۵۔اور یقیناً وہ اس کا پختہ ارادہ کر چکی تھی اور وہ (یعنی یوسف) بھی اس کا ارادہ کر لیتا اگر اپنے رب کی ایک عظیم بُرہان نہ دیکھ چکا ہوتا۔یہ طریق اس لیے اختیار کیا تا کہ ہم اس سے بدی اور فحشاء کو دور ہیں۔یقیناً وہ ہمارے خالص کئے گئے بندوں میں سے تھا۔۲۶۔اور وہ دونوں دروازے کی طرف لیکے اور اس (عورت) نے پیچھے سے (اسے کھینچتے ہوئے ) اس کی قمیص پھاڑ دی اور ان دونوں نے اس کے سرتاج کو دروازے کے پاس پایا۔اُس (عورت) نے کہا جو تیرے گھر والی