اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 329
حفاظت قرآن کریم بر متفرق اعتراضات 329 سے بدی کا ارادہ کرے اس کی جزا قید کئے جانے یا دردناک عذاب کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے۔۲۷۔اس ( یعنی یوسف) نے کہا اسی نے مجھے میرے نفس کے بارہ میں پھسلانے کی کوشش کی تھی اور اس کے گھر والوں ہی میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر اُس کی قمیص سامنے سے پھٹی ہوئی ہے تو یہی سچ کہتی ہے اور وہ جھوٹوں میں سے ہے۔۲۸۔اور اگر اُس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے تو یہ جھوٹ بول رہی ہے اور وہ بچوں میں سے ہے۔۲۹۔پس جب اس نے اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی دیکھی تو ( بیوی سے ) کہا یقینا یہ ( واقعہ ) تمہاری چالبازی سے ہوا۔یقینا تمہاری چالبازی (اے عورتو!) بہت بڑی ہوتی ہے۔۳۰۔اے یوسف ! اس سے اعراض کر اور تُو (اے عورت!) اپنے گناہ کی وجہ سے استغفار کر۔یقینا تو ہی ہے جو خطا کاروں میں سے تھی۔۳۱۔اور شہر کی عورتوں نے کہا کہ سردار کی بیوی اپنے غلام کو اس کے نفس کے بارہ میں پھسلاتی ہے۔اس نے محبت کے اعتبار سے اس کے دل میں گھر کر لیا ہے۔یقیناً ہم اسے ضرور ایک کھلی کھلی گمراہی میں پاتی ہیں۔۳۲۔پس جب اُس نے اُن کی مکاری کی بات سنی تو انہیں بلا بھیجا اور اُن کے لیے ایک ٹیک لگا کر بیٹھنے کی جگہ تیار کی اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری پکڑا دی اور اس ( یعنی یوسف) سے کہا کہ ان کے سامنے جا۔پس جب انہوں نے اسے دیکھا اسے بہت عالی مرتبہ پایا اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور کہا پاک ہے اللہ۔یہ انسان نہیں۔یہ تو ایک معزز فرشتہ کے سوا کچھ نہیں۔۳۳۔وہ بولی یہی وہ شخص ہے جس کے بارہ میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں اور یقیناً میں نے اسے اس کے نفس کے بارہ میں پھسلانے کی کوشش کی تو وہ بچ گیا اور اگر اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے حکم دیتی ہوں تو وہ ضرور قید کیا جائے گا اور ضرور ذلیل لوگوں میں سے ہو جائے گا۔۳۴۔اس نے کہا اے میرے ربّ! قید خانہ مجھے زیادہ پیارا ہے اس سے جس کی طرف وہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے اُن کی تدبیر ( کامنہ ) نہ پھیر دے تو میں ان کی طرف جھک جاؤں گا اور میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں گا۔۳۵۔پس اس کے رب نے اُس کی دعا کو سنا اور اس سے ان کی چال کو پھیر دیا۔یقیناً وہی بہت سنے والا ( اور ) دائی علم رکھنے والا ہے۔۳۶۔پھر بعد اُس کے جو آثار انہوں نے دیکھے اُن پر ظاہر ہوا کہ کچھ عرصہ کے لیے اسے ضرور قید خانہ میں ڈال دیں۔۳۷ اور اس کے ساتھ قید خانہ میں دو نو جوان بھی داخل ہوئے۔ان میں سے ایک نے کہا کہ یقیناً میں ( رویا میں ) اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں شراب بنانے کی خاطر رس نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں ( رویا میں ) اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ