اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 308
الذكر المحفوظ 308 جو شخص بھی ابن وراق کی کتاب کا مطالعہ کرے گا۔اگر وہ اسلامی تاریخ سے واقف ہے تو اس کے اس طرح بار بار دھوکہ دینے پر حیران ضرور ہو گا۔آخر اتنا جھوٹ بولنے کی ضرورت اسی وقت ہی پیش آتی ہے جب اختلاف کی کوئی بچی بنیاد نہ ملے۔جب تمام معاملات واضح ہوں اور حقیقت کا علم ہو، پھر اگر حقیقت کو چھپانا ہوتو جھوٹ کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے۔چنانچہ دجل اور فریب کے نمونے بار بار نظر آئیں گے۔جہاں تک ابن وراق کا یہ کہنا ہے کہ آجکل امت مسلمہ میں دو مختلف قسم کا قرآن کریم رائج ہے تو اس فرق یا اختلاف کی نوعیت یہ ہے کہ پارے کہاں سے شروع ہوتے اور کہاں پر ختم ہوتے ہیں۔نیز یہ فرق رکوعوں کی تقسیم میں بھی ہے۔پاروں کی تقسیم تو صحابہ نے کی ہے اور رکوعوں کی تقسیم بہت بعد میں کی گئی۔اسی طرح آیات میں رموز و اوقاف کا فرق ہے جو کہ مختلف علماء نے بہت بعد میں لگائے ہیں تا کہ عربی سے ناواقف انسان تلاوت کے وقت غلطی نہ کرے۔پس یہ کوئی اختلاف نہیں بلکہ ایک معنوی وسعت ہے۔چنانچہ اس حوالہ سے علماء نے بھی ہت بحثیں کی ہیں اور قرآن کریم کی آیات کے اندر بھی مختلف ٹکڑوں کو مختلف انداز میں لے کر ان سے معانی اخذ کیے ہیں۔مثلا املاء ما من بہ الرحمن ایک مشہور کتاب ہے جس میں گرائمر کے لحاظ سے قرآن کریم کے معانی اور معارف کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس کتاب میں بار ہا ایسی مثالیں ملیں گی جس میں آیات کے اندر مختلف الفاظ کی مختلف تراکیب کر کے معارف اخذ کیے گئے ہیں۔اسی طرح کشاف اور دیگر کتب تفسیر میں علمی نکات و معارف اخذ کیے گئے ہیں۔کچھ تراکیب رسول کریم صلی اللہ علیہ کی طرف منسوب ہیں اور کچھ علماء کی طرف۔بہت مغربی محققین اور مستشرقین بھی اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔چنانچہ ایک مستشرق لکھتا ہے: The simple fact is that none of the differences, whether vocal or graphic, between the transmission of Hafs and the transmission of Warsh has any great effect on the meaning۔Many are the differences which do not change the meaning at all, and the rest are differences with an effect on the meaning in the immediate context of the text itself, but without any significant wider influence on Muslim thought۔(Andrew Rippin (Ed۔), Approaches Of The History of Interpretation Of The Qur'an, 1988, Clarendon Press, Oxford, p 37) عام فہم حقیقت یہی ہے کہ حفص اور ورش کی قراء توں میں کوئی معنوی اختلاف نہیں ہے۔جو فرق ہیں وہ معنوی بالکل نہیں ہیں۔اور جہاں لفظ کے معنوں میں فرق ہو بھی تو آیت کا مجموعی معنی وہ فرق ختم کر دیتا ہے۔لیکن یہ بھی کوئی خاص فرق نہیں ہے جو مسلمانوں میں کوئی اعتقادی اختلاف پیدا کرے۔