اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 309
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 309 جب حضرت عثمان نے ایک قراءت پر لوگوں کو اکٹھا کیا تو اس کے بعد اختلاف قراءت بجائے جھگڑے کے علم بن کرا بھرا اور دوسری صدی سے لے کر نویں صدی تک خوب پھیلا۔علماء نے اس پر بہت سی کتب لکھیں جن میں تقریباً تمام معروف قراء توں کو درج کر لیا گیا اور باقاعدہ اس علم میں تحقیقات کے نئے نئے دروازے کھلے۔پھر ان میں سے آہستہ آہستہ مشہور اور مستند اور عمدہ قراء توں کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی اور آہستہ آہستہ غیر معروف قراء تیں کتابوں تک محدود ہوکر رہ گئیں اور نسبتا معروف قراء تیں آگے منتقل ہوتی رہیں۔ابن مجاہد نے نویں صدی میں ایک کتاب القرءات السبع لکھی جس میں ان سات قراء توں پر تفصیلی بحث کی جو کہ زیادہ معروف تھیں۔وہ قراء تیں یہ ہیں: قاری نام را وی اول نام قاری دوم نمبر شمار جگہ جہاں کی قراءت ہے 1 2 3 4 5 6 7 مد بینه امام نافع قانون ورش مکه امام ابن کثیر بردی قنبل بصره امام ابو عمرو دورى سوسی مشق ابن عامر ہشام ابن ذکوان کوفه امام عاصم شعبه حفص کوفه 21 امام حمزه خلف کوفه امام کیساتی ابو الحارث خلاد دورى یہ بڑی بڑی اور مشہور عام قراء تیں ہیں اور سب سے زیادہ استناد اور تواتر سے ہم تک پہنچیں۔ان میں سے نمبر ایک اور نمبر پانچ سب سے زیادہ مشہور ہیں۔پہلی قراءت جو کہ ورش کہلاتی ہے مصر کے علاوہ سارے براعظم افریقہ میں پڑھی جاتی ہے اور پانچویں نمبر کی قراءت جو کہ حفص کے نام سے مشہور ہے باقی اسلامی دنیا میں رائج ہے۔ان میں سے حفص کے نام سے مشہور قراءت قریش کے مطابق ہے جبکہ ورش مختلف ہے۔ابن وراق پاروں یا اجزاء کی تقسیم کے اختلاف اور آیات کے شمار کے اختلاف کو ورش اور حفص کی تفریق سے خلط ملط کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ گویا قرآن ہی دو مختلف قسم کے بنے ہوئے ہیں۔یہ اعتراض فی ذاتہ اپنے غلط ہونے کی شہادت رکھتا ہے۔اہل اسلام میں اگر مختلف قرآن رائج ہوتے تو لازماً اس کا ذکر عام ہونا چاہیے تھا۔کسی بھی علاقہ سے چھپنے والے نسخہ قرآن میں اگر کوئی غلطی راہ پا جائے تو شور مچ جاتا ہے اور اغلاط نامے وغیرہ شائع ہوتے ہیں۔دوسرے فرقوں کے ملا غلطی کرنے والوں کے خلاف کفر کے فتاویٰ شائع کر دیتے ہیں۔مگر یہ دو قرآن ایسے ہیں کہ ان کے تضاد کی مسلمان علماء سے پہلے ہی ابن وراق کو خبر پہنچ گئی۔پھر دیانت دار اہل علم محققین اور مستشرقین بھی ان دونوں قرآنوں سے ناواقف رہے۔ویلیم میور بھی یہی کہتا رہا کہ ONE CORAN has always been current دوسرے مذاہب کے متعصب ملا اور خاص کر