اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 307 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 307

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 6699 6699 307 جیسے ” اور ”و “ اور ”“، ”س“ اور ”ش“ وغیرہ کی طرز تحریر میں فرق تھا جس کو عرب بخوبی پہچانتے تھے اور پڑھنے والے بالکل صحیح پڑھتے تھے۔نیز کثرت تلاوت اور حفاظ کی کثرت کی وجہ سے غلطی کا راہ پا جانا غیر ممکن تھا۔سوال یہ ہے کہ جب اس بات پر اتنی واضح اور قطعی شہادتیں اور تاریخی دلائل موجود ہیں کہ قرآن کریم وہ واحد مذہبی کتاب ہے جو ساتھ ساتھ ضبط تحریر میں آتی گئی ، حفظ کی جاتی رہی اور جس نبی پر نازل ہوئی اسی کی نگرانی میں یہ سب کام سرانجام دیا گیا تو پھر تو کیوں ابن وراق نے یہ کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں قرآن کریم تحریری صورت میں محفوظ نہیں تھا اور یہ کہ آپ کی وفات کے بعد صحابہ کو قرآن کریم جمع کرنے کی فکر ہوئی اور مختلف لوگوں نے اپنی اپنی تحقیق کے مطابق مختلف آیات اکٹھی کر لیں۔پھر اب قراءت کے معاملہ میں دھوکہ دہی کی کوشش کیوں کی ؟ کیا ابن وراق جھوٹ بول رہا ہے اور دھوکہ اور فریب کی راہ سے حقیقت پر پردہ ڈال رہا ہے؟ یا ابن وراق کو واقعی صحیح اسلامی تاریخ کا علم نہیں ؟ لا زماً ابن وراق جھوٹ بول رہا ہے اور دھوکہ اور فریب کی راہ اختیار کر رہا ہے۔کیوں کہ ابن وراق کو تاریخ کا علم ہے اور کتاب میں اسلامی تاریخ پر مختلف مستند اور غیر مستند دونوں قسم کی کتب کے حوالے سے بات کرتا ہے۔ہاں اُن میں موجود حقائق کو بگاڑ کر پیش کرتا ہے کیونکہ جانتا ہے کہ اس کا جھوٹ عام قاری نہیں پکڑ سکے گا اور یہی سوچے گا کہ مسلمان علماء خود کو سچا کہتے رہتے ہیں اور غیر مسلم خود کو۔حقیقت نہ جانے کیا ہے۔اگر مان بھی لیا جائے کہ بفرض محال ابن وراق کو تاریخ کا علم نہیں ہے۔تو پھر ہر شخص سوچ لے کہ بنا علم کے کیوں اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی اور کیوں مستشرقین کی کتب سے صرف اعتراضات ہی بچنے اور ان کے وہ اعترافات نہیں چنے جو انہوں نے قرآن کریم کی حفاظت کے بے نظیر ہونے کے بارہ میں کیے۔پس اگر علم نہیں تو پھر بھی حق کی جستجو کرنے والے کسی شخص کے لیے قابل اعتبار ہی نہ رہا۔قراءتوں کے حوالے سے ایک اور اعتراض ہے ابن وراق کو۔کہتا ہے: At present in modern Islam, two versions seem to be in use: that of Asim of Kufa through Hafs, which was given a kind of official seal of approvel by being adopted in the Egyptian edition of the Koran in 1924; and that of Nafi through Warsh, which is used in parts of Africa other than Egypt۔(Ibn Warraq: Why I am Not A Muslim, Prometheus Books, New York, 1995, under heading; The Koran: Pg: 110) موجود دور میں مسلمانوں میں دو قسم کے قرآن رائج ہیں۔ایک حفص کے ذریعے ملنے والا عاصم کوفی کا جسکو مصری حکومت نے 1924 میں اختیار کر کے ایک قسم کی سرکاری مہر اس کے استناد پر لگادی ہے اور دوسرانافی کا جو ورش سے ملا ہے۔جو کہ سوائے مصر کے باقی افریقہ میں رائج ہے۔