اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 68
الذكر المحفوظ 68 يَقْرَأْ أَلَمْ تَنْزِيل وَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ۔(احمد والترمذى والدارمى بحواله مشكاة المصابيح كتاب فضائل القرآن) حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سورۃ سجدہ اور سورۃ ملک کی تلاوت کرنے سے پہلے نہ سوتے تھے۔اور بھی بہت کثرت ایسی روایات ملتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نا صرف یہ کہ خود کثرت سے تلاوت کیا کرتے تھے بلکہ صحابہ سے بھی سنتے رہتے تھے۔اسی طرح یہ بھی روایات ملتی ہیں کہ رسول کریم خود قرآن کریم کی درس و تدریس میں مشغول رہا کرتے تھے۔پھر یہ ذکر بھی گزر چکا ہے کہ تمام صحابہ اپنا حفظ اور اپنی تحریر آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پیش کر کے اسے مستند بنایا کرتے تھے۔پس جس شخص کا دن رات کا کام تلاوت و تعلیم قرآن ہو وہ کس طرح بھول سکتا ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ اسیح الثانی الصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک واقعہ کو کس طرح جھٹلایا جا سکتا ہے؟ جب واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم آپ کو یا درہا اور شب و روز نمازوں میں سُنا دیا جاتا رہا تو اس کا انکار کس طرح کیا جاسکتا ہے۔محمد پر تو قرآن اُترا تھا اور آپ کے سپر د ساری دُنیا کی اصلاح کا کام کیا گیا تھا۔آپ اسے کیوں نہ یاد رکھتے ؟ اور لاکھوں انسان موجود ہیں جنہیں سارے کا سارا قرآن یاد ہے۔جب اتنے لوگ اسے یاد کر سکتے تھے تو کیا وہی نہیں کر سکتا تھا جس پر قرآن نازل ہوتا تھا؟“ ( فضائل القرآن ؛ انوار العلوم جلد 10 صفحہ 513) صحامہ کی گواہی صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایمان اور جانثاری اور قرآن کریم سے ان کی محبت اس بات کی گواہ ہے کہ وہ اسے حرف بحرف کلام الہی سمجھتے تھے اور اتنے لمبے ساتھ اور زندگی کے ہزاروں چھوٹے بڑے مواقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روز وشب کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد بھی اس بارہ میں کسی قسم کے شک میں مبتلا نہیں ہوئے تھے۔صحابہ کو کبھی یہ شکایت نہیں ہوئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کوئی آیت بھول گئے اور آپ کو یاد دلانی پڑی۔ایک اور امر جس سے علم ہوتا ہے کہ صحابہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوسب سے مستند اور معتبر محافظ قرآن یقین کرتے تھے یہ ہے کہ قرآن کریم کے بارہ میں چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی، جس سے اختلاف رائے پیدا ہوتا ہو، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے اور آپ کی رائے کو حتمی سمجھتے۔چنانچہ تاریخ کے اوراق میں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ ادنیٰ سے اختلاف پر صحابہ نے کتاب اللہ کی غیرت اور محبت