اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 69
عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 69 اور عشق میں انتہائی حساس طرز عمل دکھایا۔یہاں تک کہ دیکھنے والے کو یقین ہو گیا کہ کلام الہی کے معاملہ میں ایک دوسرے کی کوئی پروا نہیں کریں گے۔مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں معاملہ پیش ہوا تو یکا یک ایسا محسوس ہوا کہ گویا کوئی اختلاف تھا ہی نہیں۔صحابہ کا یہ طرز عمل بتاتا ہے کہ ان کو پورا یقین تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے بڑے مستند اور معتبر محافظ قرآن ہیں اور آج بھی امت مسلمہ کا یہی طرز عمل ہے کہ کسی بھی اختلاف کی صورت میں قرآن کریم کے بعد آپ کے قول کو ہی تمام دوسرے اقوال پر حجت سمجھا جاتا ہے۔بھولنا ایسے بھی ہوتا ہے کہ کوئی آیت مکمل طور پر بھول گئے ہوں اور ایسے بھی ہوتا ہے کہ پہلے ایک آیت ایک بار پڑھی اور جب دوبارہ پڑھی تو الفاظ بھول گئے اور کچھ اور پڑھ لیے۔مگر تاریخ کے صفحات ایسے واقعہ کی نشاندہی نہیں کرتے کہ صحابہ کرام نے کبھی کوئی ایسی آیت پیش کی کہ یہ آیت پہلے پڑھی جاتی تھی مگر اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ اب اسے بھول گئے ہیں۔بخاری اور دیگر کتب حدیث میں یہ جو روایت ملتی کہ کسی شخص کے تلاوت کرنے پر آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تیرا بھلا کرے تو نے مجھے یہ آیت یاد دلا دی۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ فلاں آیت حافظہ سے اُتری ہوئی تھی۔صرف یہ مراد ہے کہ جیسے عام روز مرہ کی بول چال میں کہا جاتا ہے ” تمہاری اس بات سے مجھے فلاں بات یاد آ گئی۔اس سے کہنے والے کی ہرگز مراد یہ نہیں ہوتی کہ وہ اب تک بھولا ہوا تھا۔مراد صرف اتنی ہوتی ہے کہ جو بات تم کر رہے ہو اس کا تعلق اس بات سے بھی ہے جو میں کرنے لگا ہوں۔مثلاً اگر کوئی کہے کہ ہسپتال سے یاد آیا کہ میرے والد صاحب بیمار ہیں۔دعا کرنا۔اب اس سے یہ مراد نہیں ہوتا کہ کسی کو اپنے والد صاحب ہی بھول گئے تھے یا والد صاحب کی بیماری۔مراد صرف اتنی ہے کہ ہسپتال کا ذکر ہونے پر اسے اپنے والد صاحب کی موجودہ حالت کا خیال آگیا۔مخالفین کی گواہی پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن بھی آپ کر نازل ہونے والے کلام سے آشنا تھے۔تبھی تو مخالفت کا بازار گرم تھا۔اگر آپ کبھی بھولے ہوتے تو کوئی نہ کوئی ہمعصر مخالف ضرور کوئی مثال پیش کرتا کہ دیکھو پہلے محمد (ے) نے یہ الہام پیش کیا تھا اور اب بھول گئے ہیں یا پہلے یہ آیت اس طرح تھی اب بھول کر بدل دی گئی ہے۔پس اگر ایسی بات ہوتی تو ان کے لیے موجب تسلی ہوتی کہ ہمیں اتنا سر ٹکرانے کی ضرورت نہیں یہ سلسلہ خود بخودہی اپنے منبع سے دور ہوتے ہوتے اپنی اصلیت کھو دے گا۔لیکن ایسا کبھی نہ ہوا۔پس جب آپ تمیں سال نہیں بھولے اور تئیس سال کے بعد بھی آیات کو ویسے ہی پیش کرتے تھے جیسا کہ پہلے دن پیش کی تھیں اور آپ کی قوم مخالف اور موافق گواہ ہیں، تو کیسے ممکن ہے کہ غیر معمولی حافظہ کے حامل اور الوہیت کی چادر میں لیٹے ہوئے غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزول کے