اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 67
عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 67 وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ - (الجمعة : 3) ترجمہ: وہی ہے جس نے اتمی لوگوں میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔وہ اُن پر اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب کی اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ یقینا کھلی کھلی گمراہی میں تھے۔روایات میں بھی اس کا کثرت سے ذکر ملتا ہے۔تلاوت قرآن اور تعلیم القرآن کے عناوین کے تحت کافی تاریخی شواہد درج کیے جاچکے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے۔ذیل میں آپ کی تلاوت کے بارہ میں کچھ روایات درج کی جاتی ہیں۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه و سلم قَالَ: مَا آذَنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذَنَ لِنَبِي حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنى بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ ، 6 (سنن ابی داود کتاب الوتر باب استحباب الترتيل في القراءة) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اللہ کسی چیز کو ایسی توجہ سے نہیں سنتا جس طرح قرآن کریم کو سنتا ہے جب کوئی پیغمبر اس کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھے۔“ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ : كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبي صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ يَرْفَعُ طَوْرًا وَيَخْفِضُ طَوْرًا۔“ 66 (سنن ابی داود کتاب التطوع باب في رفع الصوت بالقراءة في صلاة الليل) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم رات کو کبھی بلند آواز سے اور کبھی آہستہ آواز سے تلاوت کیا کرتے تھے۔عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ الْمُسَبْحَاتِ قَبْلَ أَنْ يُرْقَدَ يَقُولُ: إِنَّ فِيهِنَّ آيَةٌ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ آيَةٍ الترمذي وابوداود بحواله مشكاة المصابيح كتاب فضائل القرآن حضرت عرباض بن ساريه رضى الله عنه روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سونے سے قبل سُوَرُ الْمُسَبِّحات “ (سورۃ بنی اسرائیل ، سورۃ حدید سورۃ حشر سورۃ صف ،سورۃ جمعہ ،سورہ تغابن اور سورۃ اعلیٰ) کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔آپ فرماتے تھے کہ ان میں ایک ایسی آیت ہے جو اپنے مضامین کے اعتبار سے ) ہزار آیات سے بڑھ کر ہے۔عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى