اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 63 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 63

عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 63 ترجمہ: اور ہم نے تجھ سے پہلے نہ کوئی رسول بھیجا اور نہ نبی مگر جب بھی اُس نے (کوئی) تمنا کی (نفس کے ) شیطان نے اس کی تمنا میں (بطور ملاوٹ کچھ ) ڈال دیا۔تب اللہ اُسے منسوخ کر دیتا ہے جو شیطان ڈالتا ہے۔پھر اللہ اپنی آیات کو مستحکم کر دیتا ہے اور اللہ دائمی علم رکھنے والا ( اور ) بہت حکمت والا ہے۔یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن کریم یا درکھوانا اللہ تعالی کی ذمہ داری تھی اور دوسری جانب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ظاہری لحاظ سے بھی تمام تر احتیاط برتتے تھے پھر قرآن کریم کی اس آیت کا کیا مطلب ہے: "سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَى إِلَّا مَاشَاءَ الله ( الا علی: 7,8) یعنی ہم تجھے پڑھا ئیں گے، پس تو نہیں بھولے گا ،سوائے اس کے جو اللہ چاہے۔إِلَّا مَا شَاءَ اللہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا کچھ حصہ ضرور ایسا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھول گئے ہوں گے۔اگر بنظر غور دیکھا جائے تو یہ تو حفاظت قرآن کا ایک اور واضح اور انتہائی تسلی بخش اعلان ہے نہ کہ جائے اعتراض۔ذرا غور کریں کہ فرمایا جارہا ہے کہ ہم تجھے پڑھائیں گے پس تو نہیں بھولے گا مگر جو اللہ چاہئے اور دوسری جگہ بتا دیا کہ اللہ قرآن کریم کی حفاظت چاہتا ہے۔پس إِلَّا مَا شَاءَ اللہ سے یہ مراد ہے اگر اپنی بشری کمزوری کی وجہ سے کچھ بھولا تو اس وجہ سے قرآن کریم میں کمی بیشی نہیں ہوگی۔حفاظت قرآن کا بیڑا اٹھانے والا تیرا خدا تجھے یاد کروائے گا۔جہاں تک تیری بشریت کا تعلق ہے تو حفاظت قرآن کے معاملہ میں تو الوہیت کی چادر میں لپٹا ہوا ہے اور اس معاملہ میں تیری بشریت کبھی آڑے نہیں آئے گی۔تیری بشریت خدا تعالیٰ کے علم میں ہے اس لیے وہ خود اپنے کلام کی حفاظت کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہے۔وہ جانتا ہے کہ حفاظت کے تمام تر تقاضے پورے کرنا اور آئندہ زمانوں میں بھی حفاظت کرنا ایک انسان کے بس کا کام نہیں۔پس جہاں تک تیری بشری کمزوری کا سوال ہے تو وہ شدید القوی خدا اسے اپنے کلام کی حفاظت کی راہ میں حائل نہیں ہونے دے گا اور تجھے ایسے قومی عطا فرمائے گا کہ تو اس الہی امانت کا بوجھ اُٹھا سکے اور آئندہ زمانوں میں مومنین کو بھی توفیق دیتا چلا جائے گا اور اُن کا نگران بھی خود ہی ہوگا۔چنانچہ فرمایا: وَمَا تَكون في شأن و ما تتلوا مِنْهُ مِنْ قُرْآن وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوداً إِذْ تُفِيضُوْنَ فِيْهِ (يونس:62) اور ٹو کبھی کسی خاص کیفیت میں نہیں ہوتا اور اس کیفیت میں قرآن کی تلاوت نہیں کرتا۔اسی طرح تم (اے مومنو!) کوئی (اچھا) عمل نہیں کرتے مگر ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم اس میں مستغرق ہوتے ہو۔