اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 62
الذكر المحفوظ کا حافظہ غضب کی ذہانت اور تخلیقی سوچ۔ایڈورڈگن رقم طراز ہیں: 62 "His (i۔e۔, Muhammad's) memory was capacious and retentive, his wit easy and social, his imagination sublime, his judgment clear, rapid and decisive۔He possessed the courage of both thought and action; and۔۔۔the first idea which he entertained of his divine mission bears the stamp of an original and superior genius۔" (Edward Gibbon: The History of the Decline and Fall of the Roman Empire, John Murray, Albemarle St۔London 1855, vol۔6,p335 یعنی آپ کا حافظہ وسیع اور تیز ، آپ کا فلسفہ عام فہم ، آپ کا تصور بلند پایہ، آپ کا فیصلہ واضح، تیز اور درست، آپ کو قول اور فعل دونوں کی جرأت عطا کی گئی تھی۔اور اپنے الوہی مشن کے بارہ میں پہلا نظریہ جو آپ نے قائم کیا وہ ایک حقیقی اور بلند تر سوچ کی حامل ہستی کی طرف سے ہونے کا ثبوت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔اور پھر بذات خود خدا تعالیٰ شدید القویٰ ہے۔جب وہ ایک کام کا ارادہ کر لیتا ہے تو کوئی دوسری طاقت یا کسی کی کمزوری خدا کے کے ارادہ کے پورا ہونے میں روک نہیں بن سکتی۔پس ان بشری کمزوریوں سے قرآن کریم کو بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمع قرآن کا تمام کام اپنے ذمہ لے رکھا تھا اور آپ کو اس امانت کا اہل بنانے کے لیے تمام ضروری قو می بھی عطا کیے تھے۔چنانچہ جب قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری کے احساس سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم وحی الہی کو نزول کے ساتھ ساتھ تیزی سے دہراتے اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں تسلی دیتا ہے کہ: فَتَعَلَى اللهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ وَلَا تَعْجَلُ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔(طه:115) ترجمہ: پس اللہ سچا بادشاہ بہت رفیع الشان ہے۔پس قرآن (کے پڑھنے ) میں جلدی نہ کیا کر پیشتر اس کے کہ اُس کی وحی تجھ پر مکمل کر دی جائے اور یہ کہا کر کہ اے میرے رب ! مجھے علم میں بڑھا دے۔اسی طرح فرمایا: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَّلَا نَبِيِّ إِلَّا إِذَا تَمَتَّى الْقَى الشَّيْطنُ فِي أمْنِيَّتِهِ ، فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ ايَتِهِ طَ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ه (الحج : 53)