اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 61 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 61

61 عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن is always of this trust because of his absolute adherence to truth۔As such it is impossible for him to commit injustice either in relation to God or His massage or in relation to mankind۔But this only happens when the faculty of such a person have been cultivated by God to reach a stage of perfect proportion and poise; and then is he considered fit۔by God to act as His messenger۔God thereby, places His trust in him and this trust is never betrayed۔(Absolute Justice Part 1, Under Heading No۔8 "The Role of the Three Creative Principles in the Shaping of Religion Page:117-118) خدا تعالی کی نمائندگی کا استحقاق اسی کو ہوتا ہے جو سچائی کے ساتھ کامل وابستگی کی بدولت ہمیشہ خدا تعالیٰ کا معتمد ہوتا ہے۔چنانچہ ناممکن ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغام کے تعلق میں بنی نوع انسان کے ساتھ کسی بھی قسم کی نا انصافی کا مرتکب ہو۔اللہ تعالیٰ اس کی تمام صلاحیتوں کو ایک کامل تناسب اور توازن کے کمال تک پہنچانے کے بعد ہی اسے نبوت کے اعلیٰ مقام پر سرفراز کیا کرتا ہے اور اپنا کام اعتماد سے عطا فرماتا ہے اور وہ بندہ کبھی بھی اس اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچا تا۔چنانچہ اسی حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں اشارہ کرتا ہے: وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى 0 ذُومِرَّةٍ ط فَاسْتَوَى (النجم : 4 تا 7) ترجمہ: اور وہ خواہش نفس سے کلام نہیں کرتا۔یہ تو خالصہ ایک وحی ہے جو اُتاری جارہی ہے۔اسے مضبوط طاقتوں والے نے سکھایا ہے۔(جو) بڑی حکمت والا ہے۔پس وہ فائز ہوا۔ان آیات میں عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوی کے الفاظ میں یہ واضح طور پر فرما دیا کہ اس حفاظت کے تعلق میں جہاں تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توفیق کا تعلق ہے تو انہیں اس شان کے قومی جو قرآن کے محفوظ رکھنے کے لیے درکار ہیں، خدا تعالیٰ نے عطا کرنے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے غیر معمولی قومی کے بارہ میں آپ کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے آج بھی گواہ ہیں۔واشنگٹن آئر ونگ یہ شہادت ان الفاظ میں دیتے ہیں: "His intellectual qualities were undoubtedly of an extraordinary kind۔He had a quick apprehension, a retentive memory, a vivid imagination and an inventive genius۔" (Washington Irving: Mahomet and his Successors, Printers: George Bell & Son Londons, York St۔, Covet Garden, 1909, p۔192) آپ ﷺ کی ذہنی صلاحیتیں بلاشبہ غیر معمولی نوعیت کی تھیں۔تیز تر فراست، بلا