اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 53 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 53

عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 53 علاقوں میں جا کر رہتے اور دیگر مسلمانوں کو قرآن کریم کی تعلیم دیتے تھے۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضر صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگرانی مدینہ منورہ کے مرکزی نظام کے تحت براہ راست سارے مسلم عرب کی تعلیم القرآن کی ضروریات پوری کی جارہی تھیں۔صحاح ستہ میں نیز دیگر حدیث اور تاریخ کی کتب میں با قاعدہ تعلیم القرآن اور تفسیر القرآن کے ابواب ہیں۔جن میں تعلیم القرآن کے سلسلہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مساعی کا ذکر اور قرآن کریم سے محبت اور اس کی تعلیم حاصل کرنے کا شوق اور رغبت پیدا کرنے کے لیے آپ کی نصائح درج ہیں۔تعلیم قرآن کے سلسلہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کس قدر باریک بینی سے انتظام فرماتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آپ کو یہ خیال رہتا تھا کہ صرف آپ کی خوشنودی کی خاطر ہی صحابہ تعلیم القرآن میں مصروف نہ رہیں بلکہ خدا کی رضا اور قرآن کریم کی تعلیم کی اہمیت کی خاطر اس میدان میں آگے قدم ماریں۔تا کہ ایسا نہ ہو کہ جب آپ سامنے نہ ہوں تو تعلیم القرآن کا سلسلہ ستی یا کمزوری کا شکار ہوجائے۔مثلاً روایت ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِّنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ وَيَتَدَارَسُوْنَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ (سنن ابی داود کتاب الوتر باب في ثواب قراءة القرآن) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جب بھی کوئی قوم قرآن کریم پڑھنے کے لیے اور ایک دوسرے کو پڑھانے کے لیے خدا تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اکٹھی ہوتی ہے تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کے گرد حلقہ بنا لیتے ہیں۔اس روایت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مساجد میں بھی تعلیم القرآن کی با قاعدہ کلاسز منعقد ہوا کرتی تھیں۔اسی طرح تاریخ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مساجد کے علاوہ صحابہ کے گھروں میں بھی تعلیم القرآن کلاسز کا با قاعدہ انعقاد ہوا کرتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم انکی نگرانی بھی فرمایا کرتے اور حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ الاشعری کے گھر پر جاری تعلیم القرآن کلاس کے معائنہ کی خواہش کا اظہار فرمایا کہ کیا ایسا انتظام ہوسکتا ہے کہ میں وہاں جا کر بیٹھوں اور کسی کو میری موجودگی کا علم نہ ہو؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ایک ایسے اندھیرے کونے میں اس طرح بٹھا دیا گیا کہ آپ تو سب کو دیکھ سکتے تھے مگر آپ کو کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔آپ نے کلاس کا جائزہ لیا اور اگلے روز اپنی