اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 52 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 52

الذكر المحفوظ 52 سناؤں۔حضرت ابی بن کعب نے عرض کی کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لے کر آپ کو یہ حکم دیا ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہاں اُبی بن كَعْب نے عرض کی ، یا رسول اللہ! کیا آپ نے رب العالمین کے حضور میر اذ کر کیا تھا ؟ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، ہاں۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جواب سن کر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قرآن کریم کی درس و تدریس میں مشغول رہنے والوں سے محبت کا یہ عالم تھا کہ تاریخ میں اس واقعہ کا ذکر ملتا ہے کہ ایک مرتبہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف لائے تو دیکھتے ہیں کہ صحابہ کے دو گروہ بنے ہوئے ہیں۔ایک گروہ عبادات اور دعاؤں وغیرہ میں مصروف ہے اور دوسرے گروہ میں قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرمانے لگے کہ مجھے تو معلم بنا کے بھیجا گیا ہے اور پھر آپ قرآن کریم کی تعلیم و تدریس میں مشغول گروہ میں رونق افروز ہو گئے۔مقدمه سنن ابن ماجه باب فضل العلماء و الحث على طلب العلم پھر صحابہ کرام کو قرآن کریم کی تعلیم دینے کے لیے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارہ میں یہ حکم فرمایا کہ ان سے قرآن سیکھو۔چنانچہ روایات میں ذکر ملتا ہے: النبي صلى الله عليه وسلم يقول خذوا القرآن من اربعة من عبدالله بن مسعود و سالم و معاذ بن جبل و أبي بن كعب صلہ الله (بخاری کتاب فضائل القرآن باب القراء من اصحاب النبي عا وسلم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا کہ چار افراد سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کیا کرو۔عبد الله بن مسعود، سالم، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب (رضوان اللہ علیہم اجمعین ) لمصل حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی الصلح الموعود رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان اساتذہ میں سے دومہاجرین میں سے تھے اور دو انصار میں سے۔دور و سا میں سے تھے اور ایک مزدور اور ایک تاجر تھے۔گویا ہر طبقے کے لیے معلم کا انتظام کر دیا۔(دیباچہ تفسیر القرآن ضیاء الاسلام پر یس ربوہ صفحہ 271) صرف انصار مدینہ میں سے ستر حفاظ کی شہادت کے واقعہ کا ذکر ( صفحہ 28 پر ) گزرا۔اس کے علاوہ بھی اور بہت سے واقعات ملتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مختلف قبائل میں دس دس پندرہ پندرہ قراء صحابہ کے وفود تعلیم القرآن کے لیے بھیجا کرتے تھے۔مہاجرین اور انصار دونوں میں حفاظ کی کثیر تعداد موجود تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرتے اور پھر وفود کی صورت میں عرب کے مختلف