اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 48 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 48

الذكر المحفوظ 48 ابوبکر" کو بھی اس کا علم ہو گیا تو اس درجہ احساس ذمہ داری اور اہتمام سے حفاظت قرآن کی خدمت سرانجام دینے کے بعد اب آپ مکمل طور پر مطمئن تھے کہ قرآن کریم محفوظ ہو چکا ہے۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جب آپ نے اپنے وصال کے قرب کی خبردی (بخاری کتاب المغازی باب مرض النبي ووفاته ) تو اس کے بعد آپ قریباً چھ ماہ اور زندہ رہے ہیں۔اگر ایک ذرہ بھی خیال ہوتا کہ ابھی کوئی کسر رہ گئی ہے تو ان چھ ماہ میں ہنگامی بنیادوں پر آپ کو وہ کسر پوری کرنی تھی۔مگر اس عرصہ میں آپ کے طرز عمل میں کوئی بے چینی یا فکر یا عملت دکھائی نہیں دیتی۔آپ مکمل طور پر مطمئن تھے کہ آپ نے اپنے سپر د اس ذمہ داری کو بہترین رنگ میں سرانجام دے دیا ہے۔ایک معمولی سوجھ بوجھ کے انسان کو اگر احساس ہو جائے کہ اس کا آخری وقت نزدیک ہے تو وہ اپنی زندگی بھر کی کمائی کی حفاظت کے خیال سے اس کے بارہ میں وصیتیں کرواتا ہے۔اسکی تقسیم کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے اس کے بعد اس کی محنت ضائع نہ ہو جائے بلکہ درست ہاتھوں میں جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بے انتہا فہم وفراست سے بعید تھا کہ ابھی حفاظت قرآن کے ضمن میں کوئی کمی رہ گئی ہو اور آپ نے اُس کمی کو پورا کرنے کا اہتمام نہ فرمایا ہو۔ہاں ایک ذکر ملتا ہے کہ اپنے آخری ایام میں امت کے لیے آخری نصیحت کے طور پر کچھ وصیت کرنے کے لیے آپ نے کاغذ قلم منگوایا۔حضرت عمرؓ کے یہ کہنے پر کہ حسبنا کتاب اللہ “ (بخاری كتاب الـمـغـازی بـاب مــرض النبی و وفاته ( یعنی ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے، آپ نے اطمینان کا اظہار فرما دیا۔گویا یہی آخری وصیت تھی آپ کی۔اب اگر کتاب اللہ کی حفاظت میں کوئی کسر رہ گئی تھی تو رسول کریم اس موقع پر ضرور اس کی بھی نصیحت کرتے۔پس جب قرآن کریم ایک ایسی واحد مذہبی کتاب ہے جو نزول کے ساتھ ساتھ ضبط تحریر میں لائی جاتی رہی ہے۔ہر دور میں تواتر کے ساتھ تحریری صورت میں موجود رہی ہے۔پھر قرآن ہی وہ واحد مذہبی کتاب ہے جو کہ مکمل طور پر حفظ کی جاتی ہے۔ہر دور میں کثیر تعداد میں اس کے حفاظ موجود رہے ہیں۔نمازوں میں پڑھی جاتی ہے۔دُنیا بھر میں سب کتابوں سے زیادہ دیکھی جاتی ہے اور سب کتابوں سے زیادہ اس کی تلاوت جاتی ہے ،تو اس کی حفاظت میں کیا کسر رہ سکتی ہے؟ جس کتاب کی حفاظت کے لیے تحریر اور حفظ کے ساتھ ساتھ اتنے بہت سے ذرائع بھی تمام تر دیانت داری کے ساتھ بروئے کار لائے جا رہے ہوں، اس کی حفاظت میں کس طرح کوئی ادنی سا بھی شک ہوسکتا ہے؟ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام فرماتے ہیں: انصاف سے دیکھنا چاہیے کہ مسلمان جس پاک اور کامل کتاب پر ایمان لائے ہیں کس قدر اس مقدس کتاب کو انہوں نے اپنے ضبط میں کر لیا ہے عموماً تمام مسلمان ایک حصہ کثیر قرآن شریف کا حفظ رکھتے ہیں جس کو پنج وقت مساجد میں نماز کی حالت میں پڑھتے ہیں۔ابھی بچہ