اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 47 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 47

47 عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن و باعث عزت و تکریم سمجھا جاتا ہے۔آج ساری دُنیا میں بڑی مساجد میں نماز تراویح میں اُن قراء کا اہتمام کیا جاتا ہے جوفن تجوید کے اصولوں سے واقف ہوں اور تلاوت کے آداب جانتے ہوں۔ساری دُنیا میں حسن قراءت کے مقابلہ جات منعقد ہوتے ہیں نیز تمام بڑی مجالس کا آغاز صحت تلفظ اور آداب فن تجوید کے ساتھ تلاوت قرآن کریم سے کیا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور سے ہی قرآن کریم دُنیا کی تمام کتب میں سب سے زیادہ زبانی اور دیکھ کر پڑھی جانے والی کتاب ہے۔آج تک دنیا کی کسی کتاب کے بارہ میں ایسے قوانین اور سائنس کی بنیاد بھی نہیں ڈالی گئی جیسا کہ قرآن کریم کے صرف پڑھنے اور تلاوت کرنے کے لیے صدیوں سے رائج ہیں۔مشہور مستشرق فلپ کے حتی لکھتے ہیں: دنیا میں نصرانیوں کی تعداد مسلمانوں سے قریباً دوگنی ہے۔لیکن اس کے باوجود وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ دُنیا کی تمام کتابوں کے مقابلے میں صرف قرآن ہی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عبادتوں میں استعمال ہونے کے سوا یہ ایک ایسی کتاب بھی ہے جس کے ذریعہ ہر نو جوان مسلمان عربی سیکھتا ہے۔تاریخ عرب از فلپ کے حتی، ناشر : آصف جاوید برائے نگارشات ، باب 5 صفحہ 35 ) رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابہ کا حفاظت قرآن کے ضمن میں بہت واضح اور حساس طرز عمل تھا کہ مسلمان کسی بھی قیمت پر قرآن کریم کی حفاظت کے خیال سے غافل نہیں ہوتے تھے۔گزشتہ سطور میں ہم نے دیکھا ہے کہ کس درجہ احتیاط سے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جمع و تدوین قرآن کی ذمہ داری پورے صدق وصفا اور دیانت داری کے ساتھ حفاظت کے تمام ظاہری تقاضے پورے کرتے ہوئے نبھائی اور ساتھ ساتھ ہر لحاظ سے اس کی اشاعت بھی فرمائی۔قرآن کریم کی عام تلاوت سے لے کر اس کے گہرے مضامین تک کی تعلیم و تدریس کا فریضہ خود بھی ادا کرتے رہے اور صحابہ کو بھی نا صرف تاکید فرماتے رہے بلکہ بھر پور نگرانی فرماتے ہوئے حفاظت کے تمام ممکنہ دُنیاوی تقاضے پورے کیے۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو وحی الہی کی حفاظت کا کس قدر خیال تھا اور آپ اس ذمہ داری کا کتنا احساس کرتے تھے اسکا اندازہ قرآن کریم کی اس گواہی سے ہوتا ہے کہ آپ نزول کے وقت وحی الہی کو نزول کے ساتھ ساتھ دہراتے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ آپ کو تسلی دی کہ اس قدر بوجھ لینے کی ضرورت نہیں۔اس کلام کی حفاظت اور اشاعت کا خدا تعالیٰ خود ذمہ دار ہے۔پھر جونہی وحی کا نزول ختم ہوتا اسے لکھوا لیتے لکھوا کر سُنتے اور تسلی کے بعد اشاعت کی اجازت دیتے۔خود تعلیم و تدریس کا فریضہ انجام دیتے اور بار بار حفاظ صحابہ سے سنتے۔حجتہ الوداع کے موقع پر ساری امت کو گواہ بنایا کہ آپ نے پیغام الہی کو ان تک مکمل صورت میں پہنچا دیا ہے اور اس الہی امانت کو کمال دیانت داری کے ساتھ حفاظت کے تمام ممکنہ تقاضے پورے کرتے ہوئے بنی نوع کے سپر د کر دیا ہے۔جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا اور آپ کو بھی اور حضرت