اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 49 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 49

49 عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن پانچ یا چھ برس کا ہوا جو قرآن شریف اس کے آگے رکھا گیا۔لاکھوں آدمی ایسے پاؤ گے جن کو سارا قرآن شریف اول سے آخر تک حفظ ہے اگر ایک حرف بھی کسی جگہ سے پوچھو تو اگلی پچھلی عبارتیں سب پڑھ کر سنادیں اور مردوں پر کیا موقوف ہے ہزاروں عورتیں سارا قرآن شریف حفظ رکھتی ہیں۔کسی شہر میں جا کر مساجد و مدارس اسلامیہ میں دیکھو صد ہالڑکوں اور لڑکیوں کو پاؤ گے کہ قرآن شریف آگے رکھے ہیں اور با ترجمہ پڑھ رہے ہیں یا حفظ کر رہے ہیں اب سچ سچ کہو کہ اس کے مقابل پر وید کا کیا حال ہے اور خود ایمانا اپنے ہی کانشنس سے پوچھ کر دیکھو کہ وید کی حالت کو اس سے کیا نسبت ہے سو اس سے ہی تم سمجھ سکتے ہو کہ کس کتاب کے شامل حال نصرت الہی ہے اور کونسی کتاب اپنی تعلیموں میں شہرت تام پا چکی ہے یوں تو منعصوں کا تعصب خدا ہی مٹاوے تو مٹ سکتا ہے لیکن غور کرنے والی طبیعتیں سمجھ سکتی ہیں۔شحنه حق روحانی خزائن جلد دوم صفحہ 333 ، 334 ) تعلیم القرآن حفاظت قرآن کے ضمن میں امت محمدیہ میں قرآن کریم کی تعلیم رائج ہونے اور جاری وساری رہنے کا بھی بہت اہم حصہ ہے۔یہ ظاہر ہے کہ جس کتاب کے لفظ تو محفوظ ہوں لیکن معنوں کی حفاظت نہ ہو وہ محفوظ کتاب نہیں کہلا سکتی۔لیکن جس کتاب کی تعلیم ہر دور میں کسی قوم کے چھوٹے بڑے افراد میں عام ہو ممکن ہی نہیں کہ وہ کتاب کسی بھی زمانہ میں ضائع ہو جائے۔یہ بہت واضح امر ہے کہ جو تعلیم دلوں میں راسخ ہو جائے اور روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے وہ مٹائی نہیں جاسکتی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جہاں قرآن کریم کی جمع کا ذمہ لیا وہاں اس کی تعلیم اور اس کے معانی کی تفہیم کا ذمہ بھی اپنے سر ہی لیا۔قرآن کریم کی حفاظت کے ضمن میں اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جو مساعی فرما ئیں ان میں تعلیم القرآن کے حوالہ سے بہت اہم اور بنیادی اقدامات کیے۔چنانچہ آپ قرآن کریم کا علم حاصل کرتے رہنے کی بہت تاکید فرماتے تھے اور نہ صرف علم حاصل کرنے کی تلقین فرماتے بلکہ صحابہ کو قرآن کریم سکھانے اور اسکی تعلیم کی اشاعت کی طرف توجہ دلاتے۔سب سے پہلے معلم قرآن خود آپ تھے اور معلمین قرآن کے لیے اسوہ حسنہ بھی۔چنانچہ آپ کی والہانہ اطاعت کرنے والے جانثار صحابہ نے اس میدان میں بھی غیر معمولی اخلاص کے ساتھ بے نظیر نمونہ دکھایا۔تاریخ کے اوراق ان بے شمار مثالوں سے پُر ہیں کہ صحابہ کس شوق اور ولولہ سے اپنے آقا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور اس کی اس خواہش کی تکمیل میں اور حفاظت قرآن کے باب میں اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے اس میدان میں آگے آئے۔سب سے پہلے تو قرآن کریم کی اندرونی گواہی موجود ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سب سے پہلے