اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 382 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 382

الذكر المحفوظ 382 معنے شرف اور نصیحت کے بھی ہیں۔قرآن کریم کا نام ذکر اس لیے رکھا گیا کہ اس کے ذریعہ سے اس کے ماننے والوں کو شرف اور تقویٰ حاصل ہوگا۔پس اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ میں اس طرف بھی اشارہ ہے۔کہ یہ کلام جس کا یہ دعویٰ ہے کہ میرے ذریعہ سے ماننے والوں کو شرف اور عزت اور تقویٰ ملے گا۔ہمارا ہی اُتارا ہوا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں یعنی ان صفات کو عملاً پورا کرنا ہمارا ہی کام ہے۔اگر یہ صفات اس کی ظاہر نہ ہوں تو گویا اس کی تعلیم ضائع ہوگئی۔مگر ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔۔۔۔غرض خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کی معنوی حفاظت کا مدار صرف عقل پر ہی نہیں رکھا اور اس کی تشریح کا انحصار صرف انسانی دماغ پر ہی نہیں چھوڑا۔بلکہ خود اپنے کلام سے اس کو ظاہر فرمانے کا ذمہ لیا ہے۔جس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جب اس طرح سے عملی پھل ظاہر ہوتے ہیں تو قرآن مجید کے محفوظ ہونے کا ایک بین ثبوت ملتا رہتا ہے۔قرآن مجید کے تازہ پھل بھی ثابت کرتے رہتے ہیں کہ قرآن مجید محفوظ اور زندہ کتاب ہے اور یہ قرآن مجید کی حفاظت کا ایساز بر دست ذریعہ ہے۔جو اور کسی کتاب کو میسر نہیں اور نہ کبھی ہوگا۔( تفسیر کبیر جلد چہارم صفحه 52 زیرتفسیر المجر آیت 10) پس جیسا کہ یہ عملی پھل آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک سے لے کر تمام زمانوں میں ظاہر ہوتے رہے اسی طرح آپ کے غلام کامل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی شکل میں قرآن کریم کی حفاظت کے ایک اتم اور اکمل ثبوت کے طور پر موجود ہیں۔چنانچہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ السلام کی قائم فرمودہ جماعت میں آپ کے ہزاروں صحابہ اور جانثار قرآن کریم کی محافظت کے تازہ بتازہ ثبوتوں کے طور پر مخالفین اسلام پر حجت تمام کرتے رہے ہیں۔یہ پاک وجود خلفاء احمدیت کی سرکردگی میں قرآن کریم کی معنوی حفاظت کو یقینی بنائے ہوئے ہیں۔آج بھی ایک پاکیزہ نورانی چہرہ ایسے لوگوں کی بڑی جماعت کو اپنی حفاظت کے حصار اور اپنے جلو میں لیے اہل اسلام کو مسرور کر رہا ہے۔اللهم ايد امامنا بروح القدس و كن معه حيث ما كان وانصره نصراً عزيزاً اے اللہ ہمارے امام کی روح القدس سے تائید فرما اور وہ جہاں بھی ہوں اُن کے ساتھ ہو جا اور ان کی غالب مددفرما اللهم انصر من نصر دين محمد صلى الله عليه وسلم واجعلنا منهم و اے اللہ جو دین محمد مے کے انصار میں شامل ہو تو اس کا مددگار بن جا اور ہمیں اُن خوش نصیبوں میں سے بنا اور اخزل من خزل دین محمد صلى الله عليه وسلم ولا تجعلنا منهم جود بین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بُرا چاہے تو اسے ناکام و نامراد کر دے اور ہمیں ایسے لوگوں میں سے نہ بنانا۔(آمین)