اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 383
قرآن کریم کی معنوی محافظت 383 مسئله ناسخ و منسوخ دُنیا کے عام قانون دان یا قانون ساز ادارے جو مہذب معاشرہ کے لیے قوانین سازی کرتے ہیں، آئے دن اپنے قوانین پر نظر ثانی کرتے اور تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں غلطیوں کی اصلاح اور رد و بدل کرتے رہتے ہیں۔قرآن کریم بھی دستور حیات ہے لیکن یہ کسی ایسے قانون کی طرح نہیں جو انسان نے بنایا ہو۔اس کا دعوی ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا پیش فرمودہ ہے۔پس اگر یہ واقعی خدا کا کلام ہے تو پھر اس میں کسی نظر ثانی کی گنجائش نہیں ہے۔الہی قانون میں تبدیلی ناممکن ہے ورنہ اعتراض پیدا ہوتے کہ کیا خدا تعالیٰ کو بھی نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا خدا تعالیٰ کو بھی بیان بدلنے کی ضرورت پڑتی ہے۔اگر ایساہے تو پھر یہی نتیجہ نکلتاہے کہ گویا خدا تعالی بھی غلطی سے پاک نہیں ہے۔اگر خدا تعالیٰ علیم اور قدوس ہے یعنی ہر علم پر کامل طور سے محیط اور ہر غلطی اور عیب سے منزہ ہے تو پہلی دفعہ ہی درست اور حتمی بات کرتا اور بار بار بات بدلنے کی ضرورت نہ پڑتی۔کیونکہ نظر ثانی کی ضرورت تو وہاں پڑتی ہے جہاں غلطی کا امکان ہو۔اگر خدا غلطی کر سکتا ہے تو پھر نظر ثانی کر کے اپنی بات کو بدل سکتا ہے۔اگر غلطی نہیں کرتا تو پھر بدلنے کا سوال ہی نہیں۔پس اگر خدا تو غلطی نہیں کرتا لیکن قرآن مجید میں ہمیں ایسے بیانات ملتے ہیں جو ایک دوسرے کو رڈ کرتے ہیں یا ایک دوسرے کے خلاف ہیں اور یہ ایک ایسا کلام ہے کہ متضاد ہونے کی وجہ سے ایک حصہ دوسرے کو منسوخ کرتا ہے تو پھر یہ خدا کا کلام نہیں ہوسکتا۔کیونکہ عقل یہ تسلیم نہیں کرتی کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں یا اس کے قول اور فعل میں تضاد ہو سکتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہی اصول بیان فرماتا ہے: لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (النساء: 83) اگر (یہ قرآن) غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت اختلاف ہوتا۔مگر بد قسمتی سے پھر بھی مسلمانوں نے واضح ہدایت اور راہنمائی کے باوجود اس قسم کی غلطی کی اور اس اصول کو کلیہ رد کرتے ہوئے قرآن کریم کی بعض آیات کو بعض دوسری آیات کے متضاد سمجھ کر منسوخ قرار دے دیا اور یوں عامتہ المسلمین کو بھی اپنے مذہب کے بارے میں شکوک میں مبتلا کیا اور مخالفین کوبھی اعتراضات کا موقع دیا۔قرآن کریم کے بارہ میں مسلمانوں میں جو غلط فہمیاں پیدا ہو چکی ہیں ان میں سے ایک غلط نہی نسخ فی القرآن کا عقیدہ ہے۔نسخ کے عقیدہ کا براہ راست قرآن کریم کی معنوی حفاظت سے تعلق ہے۔اگر قرآن کریم میں نسخ کا جواز تسلیم کیا جائے تو پھر قرآن کریم محفوظ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ پھر یہ جھگڑا کھڑا ہو جاتا ہے کہ کون سی آیت منسوخ ہے اور کون سی نہیں۔ہر شخص اپنے فہم کے مطابق قرآنی آیات کو رڈ کرنے لگے گا۔