اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 381
قرآن کریم کی معنوی محافظت 381 روشن فرماتا ہے اور وہ جو آسمان سے علم اترتے ہیں اس میں میرا اکتساب کوئی نہیں، یہ اللہ کا فضل ہے۔اور میں سمجھتا ہوں اس منصب کی برکت ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک معمولی علم والے کو بھی چن کر جب ایک منصب پر فائز فرما دیتا ہے تو علمی رہنمائی پھر خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔خطبہ عید الفطر 3 مارچ 1995 بحوالہ الفضل سالانہ نمبر 30 دسمبر 2000 صہ 63) خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد چونکہ آپ کا قیام زیادہ تر لندن میں رہا اس لیے اردو زبان کے ساتھ ساتھ آپ نے انگریزی زبان میں بھی قرآن کریم کے معارف و معانی سے لبریز کتب شائع فرمائیں۔مثلاً ایک معروف کتاب Revelation Rationality Knowledge And Truth ہے۔اس کے علاوہ خلفاء احمدیت کی نگرانی میں بہت سی کتب آڈیو اور ویڈیو اور ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے ذریعہ تعلیم کتاب اور حکمت کے سلسلے میں برکات خلافت تمام دُنیا میں پہنچ رہی ہیں نیز ساری دُنیا میں شائع ہونے والے بہت سے اخبارات اور رسائل تعلیم کتاب اور حکمت کے باب کو ہر آن وار رکھتے ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آج تعلیمات قرآن کی اشاعت میں جو بے انتہا محنت اور مشقت اُٹھا رہے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے۔اسی طرح آپ ( ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ) کے ہزاروں ہزار جانثار اپنی جانوں اور اپنے مالوں کے ساتھ آپ کے انصار میں شامل ہیں۔یہ اسوہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔صرف تعلیم قرآن کے حوالہ سے ہی اس پاکیزہ وجود کی برکات چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی ہیں۔آج دُنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں کہ جہاں یہ شریں آواز تشنہ روحوں کو سیراب اور مغموم دلوں کو مسرور نہ کر رہی ہو۔معنوی حفاظت کا بہت زبردست ثبوت خدا تعالیٰ کے ایسے بندے ہیں جو قرآن کریم کی تعلیمات پر چل کر وصال الہی کے مرتبہ تک پہنچتے ہیں اور دُنیا کے سامنے قرآن کریم کی صداقت کے عملی گواہ ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: قرآن شریف کی حفاظت کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ توریت یا کسی اور کتاب کے لیے نہیں اسی لیے ان کتابوں میں انسانی چالاکیوں نے اپنا کام کیا۔قرآن شریف کی حفاظت کا یہ بڑا ز بر دست ذریعہ ہے کہ اس کی تاثیرات کا ہمیشہ تازہ بتازہ ثبوت ملتا رہتا ہے اور یہود نے چونکہ توریت کو بالکل چھوڑ دیا ہے اور ان میں کوئی اثر اور قوت باقی نہیں رہی جو ان کی موت پر دلالت کرتی ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 450) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جب تک قرآن کریم کی پیروی سے مجدد اور ماموراس امت میں آتے رہیں گے یہ ثابت ہوتا رہے گا کہ قرآن کریم محفوظ ہے۔کیونکہ ذکر کے ایک