اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 378 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 378

الذكر المحفوظ 378 اعجازی حقائق اور معارف اور انوار اور برکات کو ظاہر کرنے سے جن سے قرآن شریف کا منجانب اللہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔چنانچہ میری کتابوں کو دیکھنے والے اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ کتابیں قرآن شریف کے عجائب اسرار اور نکات سے پر ہیں اور ہمیشہ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جسقدر مسلمانوں کا علم قرآن شریف کی نسبت ترقی کریگا اسیقد رانکا ایمان بھی ترقی پذیر ہوگا۔کتاب البریہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 294 تا 297 حاشیہ ) اپنے مقام کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: میری حیثیت ایک معمولی مولوی کی حیثیت نہیں ہے بلکہ میری حیثیت سُننِ انبیاء کی سی حیثیت ہے۔مجھے ایک سماوی آدمی مانو۔پھر یہ سارے جھگڑے اور تمام نزاعیں جو مسلمانوں میں پڑی ہوئی ہیں، ایک دم میں طے ہوسکتی ہیں۔جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر حکم بن کر آیا ہے۔جو معنے قرآن شریف کے وہ کرے گا وہی صحیح ہوں گے اور جس حدیث کو وہ صحیح قرار دے گا وہی حدیث صحیح ہوگی۔ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں: ( ملفوظات جلد اول صفحه 399 ) مجھے بتلایا گیا ہے کہ تمام دینوں میں سے دینِ اسلام ہی سچا ہے۔مجھے فرمایا گیا ہے کہ تمام ہدا ئتیوں میں صرف قرآنی ہدایت ہی صحت کے کامل درجہ پر اور انسانی ملاوٹوں سے پاک ہے۔مجھے سمجھایا گیا ہے کہ تمام رسولوں میں سے کامل تعلیم دینے والا اور اعلی درجہ کی پاک اور پُر حکمت تعلیم دینے والا اور انسانی کمالات کا اپنی زندگی کے ذریعہ سے اعلیٰ نمونہ دکھلانے والا صرف حضرت سید نا ومولانامحمد مصطفی ﷺ ہیں اور مجھے خدا کی پاک اور مطہر وحی سے اطلاع دی گئی ہے کہ میں اس کی طرف سے مسیح موعود اور مہدی موعود اور اندرونی اور بیرونی اختلافات کا حکم ہوں۔یہ جو میرا نام مسیح اور مہدی رکھا گیا ان دونوں ناموں سے رسول اللہ ﷺ نے مجھے مشرف فرمایا اور پھر خدا نے اپنے بلا واسطہ مکالمہ سے یہی میرا نام رکھا اور پھر زمانہ کی حالت موجودہ نے تقاضا کیا کہ یہی میرا نام ہو۔غرض میرے ان ناموں پر یہ تین گواہ ہیں۔میرا خدا جو آسمان اور زمین کا مالک ہے میں اس کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ میں اس کی طرف سے ہوں اور وہ اپنے نشانوں سے میری گواہی دیتا ہے۔اگر آسمانی نشانوں میں کوئی میرا مقابلہ کر سکے تو میں جھوٹا ہوں۔اگر دعاؤں کے قبول ہونے میں کوئی میرے برابر اتر سکے تو میں جھوٹا ہوں۔اگر قرآن کے نکات اور معارف بیان کرنے میں کوئی میرا ہم پلہ ٹھہر سکے تو میں جھوٹا ہوں۔اگر غیب کی پوشیدہ باتیں اور اسرار جو خدا کی اقتداری قوت کے ساتھ پیش از وقت مجھ سے ظاہر ہوتے ہیں ان میں کوئی میری برابری کر سکے تو میں خدا کی