اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 377 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 377

377 قرآن کریم کی معنوی محافظت طرف سے ہوں اور اس کے بھیجنے سے عین وقت پر آیا ہوں اور اس کے حکم سے کھڑا ہوا ہوں۔اور وہ میرے ہر قدم میں میرے ساتھ ہے۔اور وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا اور نہ میری جماعت کو تباہی میں ڈالے گاجب تک وہ اپنا تمام کام پورا نہ کرلے جس کا اُس نے ارادہ فرمایا ہے۔اُس نے مجھے چودھویں صدی کے سر پر تکمیل نور کے لئے مامور فرمایا۔اربعین نمبر 2 روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 348) ایک جگہ آپ مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں ہر ایک مسلمان کی خدمت میں نصیحاً کہتا ہوں کہ اسلام کے لئے جا گو کہ اسلام سخت فتنہ میں پڑا ہے۔اس کی مدد کرو کہ اب یہ غریب ہے اور میں اسی لئے آیا ہوں اور مجھے خدا تعالیٰ نے علم قرآن بخشا ہے اور حقائق معارف اپنی کتاب کے میرے پر کھولے ہیں اور خوارق مجھے عطا کئے ہیں۔سو میری طرف آؤ تا اس نعمت سے تم بھی حصہ پاؤ۔مجھے قسم ہے اس ذات کی جسکے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔کیا ضرور نہ تھا کہ ایسی عظیم الفتن صدی کے سر پر جس کی گھلی گھلی آفات ہیں ایک مجد دکھلے گھلے دعوئی کے ساتھ آتا۔سوعنقریب میرے کاموں کے ساتھ تم مجھے شناخت کرو گے ہر ایک جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا اُسوقت کے علماء کی نا مجھی اس کی سد راہ ہوئی۔آخر جب وہ پہچانا گیا تو اپنے کاموں سے پہچانا گیا کہ تلخ درخت شیریں پھل نہیں لاسکتا۔اور خدا غیر کو وہ برکتیں نہیں دیتا جو خاصوں کو دی جاتی ہیں۔اے لوگو! اسلام نہایت ضعیف ہو گیا ہے اور اعداء دین کا چاروں طرف سے محاصرہ ہے اور تین ہزار سے زیادہ مجموعہ اعتراضات کا ہو گیا ہے۔ایسے وقت میں ہمدردی سے اپنا ایمان دکھاؤ اور مردان خدا میں جگہ پاؤ۔والسلام على من اتبع الهدى بركات الدعا روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 36 ) حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے اردو عربی اور فارسی زبانوں میں 83 سے زائد کتب اور بے شمار اشتہارات اور خطوط تحریر کر کے تعلیم قرآن کریم کے فہم اور قرآنی معارف کی اشاعت کے لیے شائع کیے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق قرآن کریم کا پیش فرمودہ ایمان دُنیا سے اٹھتے اٹھتے اس قدر بلندی پر چلا گیا کہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں ثریا جتنا بلند ہو گیا۔اسلام کا یہ بطل جلیل دوبارہ ایمان کو آسمان سے اُتار لایا۔آپ نے قرآن کریم کی تعلیمات کے خلاف جاری رسوم کا قلع قمع کیا اور امت مسلمہ کے اُن عقائد کی اصلاح فرمائی جو قرآنی تعلیمات کے صریحاً خلاف تھے۔آپ فرماتے ہیں: منجملہ ان اُمور کے جو میرے مامور ہونے کی علت غائی ہیں مسلمانوں کے ایمان کو قومی کرنا ہے۔اور انکوخدا اور اسکی کتاب اور اسکے رسول کی نسبت ایک تازہ یقین بخشنا۔اور یہ طریق ایمان کے تقویت کا دوطور سے میرے ہاتھ سے ظہور میں آیا ہے۔اوّل قرآن شریف کی تعلیم کی خوبیاں کرنی اور اسکے