اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 359 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 359

359 حفاظت قرآن کریم بر متفرق اعتراضات overthrowing long-established religions, remolding the souls of races, and building up a whole new world - the world of Islam۔۔۔۔۔۔۔۔For the first three centuries of its existence (circ۔C۔E۔650-1000) the realm of Islam was the most civilized and progressive portion of the world۔Studded with splendid cities, gracious mosques, and quiet universities where the wisdom of the ancient world was preserved and appreciated, the Moslem world offered a striking contrast to the Christian West, then sunk in the night of the Dark Ages۔" (A۔M۔Lothrop Stoddard: The New World of Islam, London 1932, pp۔1-3) اسلام کا عروج انسانی تاریخ کا شائد سب سے زیادہ حیران کن واقعہ ہے۔اسلام ایک دور افتادہ سرزمین اور معمولی پسماندہ لوگوں سے پھوٹا اور دُنیا کی بڑی بڑی اور نامور سلطنتوں ایوانوں میں زلزلہ بپا کرتے ہوئے، لمبے عرصہ سے قائم مذاہب کو پچھاڑتے ہوئے ، اقوام کی تعمیر نو کرتے ہوئے محض ایک سو سال کے قلیل عرصہ میں ایک جہان نو کی تعمیر کرتے ہوئے جو کہ اسلام کا جہان تھا، نصف سے زائد دُنیا فتح کر چکا تھا۔۔ابتدائی تین صدیوں میں اسلامی سلطنت دُنیا کا سب سے مہذب اور ترقی یافتہ حصہ تھا۔عالی شان شہروں سے مزین ، پُر وقار مساجد اور ایسی پرسکون یونیورسٹیاں، جہاں زمانہ قدیم کے علوم نہ صرف محفوظ رکھے جاتے بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے۔مسلمان دنیا عیسائی مغرب سے ایک بالکل برعکس نظارہ پیش کرتی تھی جو کہ اس وقت جہالت کی گھٹاٹوپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ابن وراق کو کیا نظر آئے گا قاری خود سمجھ لے کہ قرآن کریم حفظ کرنے والی دہنی طور پر نا کا رہ اقوام اس شان و شوکت کو کیسے پائیں ؟ اور یہ محض تھے نہیں بلکہ یہی سونے آج بھی ملتے ہیں۔امام جماعت احمد یہ حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ اور حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ جنہوں نے اپنے دور خلافت میں جماعت کو تمام تر خطرات سے نکالتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن رکھا، لشکرِ اسلام کے یہ فتح نصیب شہسوار حافظ قرآن بھی تھے۔ہم نے وہ ہستیاں بطور نمونہ کے پیش کر دی ہیں جن کے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نے مختلف ادوار میں اسلام کی کلید فتح و ظفر تھمائی اور یہ وہی ہستیاں ہیں جو ابن وراق کو اور اس جیسے دجل اور مکر سے کام لینے والے دیگر مخالفین اسلام کو شکست فاش دیتی چلی آئی ہیں۔کیا ابن وراق اور اس کی قماش کے یہ لوگ عقل مند نہیں تھے ؟ بخدا ان کی