اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 358 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 358

الذكر المحفوظ 358 صرف حفاظت قرآن کے حوالہ سے ہی دیکھا جائے تو انہوں نے اپنے آقا و مطاع پر نازل ہونے والے کلام کی حفاظت کے لیے اپنے آقا کی پیروی میں ایسے ایسے غیر معمولی اقدامات کیے کہ ابن وراق جیسے کتنے مخالفین ہیں جو صدیوں کوششیں کرنے کے بعد بھی قرآن کریم کی حفاظت کے میدان میں اپنے تمام تر بُرے اور کریہہ ارادوں کے ساتھ ناکام و نامراد ہوتے چلے جارہے ہیں۔انہی خلفا رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں متبعین اسلام نے حیرت انگیز طور پر معلوم دنیا کا بڑا حصہ انتہائی کم وقت میں معجزانہ طور پر فتح کر لیا تھا۔پس اگر حفظ سے ذہن پر بُرا اثر پڑتا ہے تو پھر یہ حفاظ کس طرح دُنیا سے آگے نکل گئے ؟ ان فاتحین نے صرف غلبہ ہی حاصل نہ کیا بلکہ مفتوح علاقوں میں تہذیب و تمدن کی بنیاد ڈالی اور علوم وفنون کو ترقی دی۔صرف یہ لوگ ہی حافظ قرآن ہی نہ تھے بلکہ اسلامی افواج کی کثیر تعداد بھی حفاظ پر ہی مشتمل ہوتی تھی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جب جھوٹے مدعیان نبوت سے برسر پیکار ہونا پڑا تو جنگ یمامہ میں لشکر اسلام کے شہداء میں صرف حفاظ کی تعداد ہی 700 تک جا پہنچی تھی (عد (عمدة القاري جزء 20 كتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن ص 16) یہ فتح نصیب قوم بقول ابن وراق کے اُن لوگوں پر مشتمل ہوتی تھی جن کی ذہنی صلاحیتیں حفظ قرآن کے نتیجہ میں کند ہو چکیں تھیں۔لاحول و لا قوة الا بالله! حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں اسلام کی بیمثال کامیابیاں دیکھ کر دنیا آج بھی انگشت بدنداں ہے۔نافع بن عبد الحارث حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عسفان میں ملے۔حضرت عمرؓ نے انہیں اہل مکہ کا والی مقرر کیا ہوا تھا۔اس نے حضرت عمر کو سلام کیا۔حضرت عمرؓ نے اس سے دریافت کیا۔تم نے وادی مکہ میں اپنا قائم مقام کس کو مقرر کیا۔نافع نے عرض کیا کہ میں نے ابنِ ابزی کو اپنا قائم مقام مقرر کیا ہے۔حضرت عمرؓ نے دریافت فرمایا۔ابنِ ابزلی کون ہے؟ نافع نے عرض کیا۔اے امیر المومنین ! وہ حافظ قرآن اور علم الفرائض کا ماہر ہے۔اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارا فیصلہ ٹھیک ہے۔(الدار سی کتاب فضائل القرآن باب ان الله يرفع بهذا القرآن اقواما آخرین ) یہی تو وہ درست فیصلے تھے جن کی وجہ سے غیر معمولی فتوحات نصیب ہوئیں۔پھر ان فاتحین نے علمی میدان میں ایسے ایسے کار ہائے نمایاں سرانجام دیے کہ جدید علوم کے جدا مجد مسلمان ہی کہلائے۔کیا ذہن ناکارہ ہوں تو علمی فتوحات حاصل ہوتی ہیں؟ اس وقت جب اسلام اپنے عروج پر تھا یورپ نے کونسی بائبل حفظ کر رکھی تھی کہ ذہن کند تھے اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے۔قرآن کریم ويضع کی برکات سے عربوں نے کیا کیا حیرت انگیز انقلاب پیدا کیے، غیروں کی زبان سے ان کا ذکر سنیں: The rise of Islam is perhaps the most amazing event in human history۔Springing from a land and a people alike previously negligible, Islam spread within a century over half the earth, shattering great empires,