اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 360 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 360

الذكر المحفوظ 360 مکاریاں اور عیاریاں دیکھ معلوم ہوتا ہے کہ بہت عمدہ ذہنی صلاحیتوں کو اسلام دشمنی اور تعصب کی راہ میں برباد کرتے رہے تھے۔پس ان عیار دماغوں کے دانت ہر میدان میں کھٹے کرنے والے یہ حافظ قرآن لیڈ ر اس بات کا ایک نا قابل تردید ثبوت ہیں کہ حفظ قرآن کریم سے انسانی ذہن کو مزید جلا ملتی ہے۔اگر کوئی بُرا اثر پڑا ہے تو حفظ قرآن کے خدائی اہتمام سے مخالفین اسلام اور مخالفین قرآن کے ذہنوں پر پڑا ہے اور اس غم میں پاگل ہوئے جارہے ہیں کہ یہ عدیم النظیر ذریعہ محفاظت قرآن کریم کو نصیب ہی کیوں ہو! حفاظت قرآن کے باب میں حفظ قرآن کا باب تو ایسا باب ہے کہ اس کے سامنے کسی انسان کا کچھ بس نہیں چلتا۔کیا ان حافظ قرآن ہستیوں کے ہاتھوں دین اسلام کی اس درجہ شوکت و تمکنت کو دیکھ کر، اور پھر خدمت اسلام کے جہاد میں ان لوگوں کا کردار دیکھ کر کوئی شخص یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ قرآن کریم حفظ کرنے والے کا ذہن کند ہو جاتا ہے اور وہ کسی بڑے کام کے قابل نہیں رہتا ؟ آدھی دنیا فتح کرنا بڑا کام نہیں ؟ اور صرف ظاہری غلبہ نہیں بلکہ من موہنا، دلوں کو تسخیر کرنا کیا یہ بڑا کام نہیں ؟ کیا مفتوحین کو مہذب اور متمدن بنانا بڑا کام نہیں؟ کیا مفتوحین کی تعلیم و تربیت اور انہیں علوم و فنون میں دسترس دلا نا بڑا کام نہیں؟ بخدا دنیا کے ہر کونے سے اس حقیقت کی شناسائی کے بعد یہی پکار اٹھے گی کہ ابن وراق اگر تم کوئی وجود رکھتے ہو تو سن لو کہ تمہارا جھوٹا ہونا ظاہر ہوچکا ہے!!! ہم یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ ابن وراق ان جگہوں پر سراسر دجل، فریب اور جھوٹ سے کام لے رہا ہے۔بہت کوشش کی ڈھونڈنے کی کہ کہیں تو کوئی بات دیانت داری سے کہی ہو۔ابن وراق کو اتنی سی شرم اور حیا بھی نہیں ملی کہ خوبی کا اعتراف نہ کرے تو اس سے اعراض ہی کرلے۔یہ شخص تو کمال بے حیائی سے ہر خوبی کا نہ صرف انکار کرتا ہے بلکہ اسے خامی کی شکل میں پیش کرتا چلا جا رہا ہے۔یہ بھی نہیں سوچا کہ قاری یہ تو سوچتا ہی ہوگا کہ اس کتاب کے مطابق تو مذ ہب اسلام کی تو ہر بات ہی الٹ اور غلط ہے اور کوئی بات درست ہے ہی نہیں۔کتاب ہے تو وہ گھٹیا عربی زبان میں تعلیم ہے تو وہ عقل سے عاری؛ بانی ہے تو وہ عام اخلاق سے بھی بے بہرہ ( نعوذ باللہ ) پھر کروڑہا انسانوں کی عقلیں کیوں ماری گئیں کہ ایک ایسے مذہب کو اس درجہ محبت اور اخلاص سے چمٹے کہ جان و مال لگا دیے، دنیا بھر کی دشمنی مول لے لی، اپنے چھوٹے ، پرائے دشمن ہوئے ، جانیں گنوادیں مگر اس دین کو نہ چھوڑا؟ جس شخص کو بھی اسلامی تاریخ سے ادنی سا بھی مس ہے وہ تو یہ کتاب پڑھ کر دوہی نتیجے نکال سکتا ہے کہ ہر دور کے پاگل، جاہل، نجی، کند ذہن ، بد دیانت وغیرہ وغیرہ اس دین کو تسلیم کرتے ہوں گے اور اسلام دراصل جرائم پیشہ افراد کا ایک گروہ ہی ہوگا۔مگر یہ نتیجہ تاریخ اور حالات کے آئینہ میں سچا اور درست نظر نہیں آتا کیونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد صحابہ نے وہ شان دکھائی کہ ایک دُنیا دنگ رہ گئی۔ایسا بے نظیر جسمانی اور روحانی انقلاب ایک سچا مذہب پیدا کرسکتا ہے۔پس ہو نہ ہوا بن وراق جھوٹ بول رہا ہے۔