اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 357
حفاظت قرآن کریم پر متفرق اعتراضات 357 عرب کے بدو قبائلی تند خو جنگجوؤں کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔باوجود یکہ وہ تعداد میں کم ، پراگندہ، جدید آداب جنگ سے ناواقف تھے اور شمالی زرعی علاقوں میں قائم وسیع بادشاہتوں کی افواج سے ان کی کوئی برابری نہیں تھی۔تاہم تاریخ میں پہلی بار آنحضرت (ع) نے انہیں یکجا کیا اور وہ سب بچے خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لے آئے جس کے بعد اتنی مختصر سی عرب افواج نے انسانی تاریخ میں فتوحات کا ایک حیران کن سلسلہ قائم کر دیا۔۔۔اولاً تو یہ بات ہی نہایت حیران کن ہوگی کہ میں نے حضرت محمد (ﷺ) کو حضرت عیسی سے بلند مرتبہ ظاہر کیا ہے لیکن میرے پاس اس فیصلہ کے لیے دو اصولی وجوہ ہیں : پہلی وجہ یہ ہے کہ حضرت محمد (ﷺ) نے ترویج و فروغ اسلام میں جو کلیدی کردار ادا کیا ہے وہ حضرت عیسی کے اس کردار سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے جو انہوں نے عیسائیت کی ترویج میں ادا کیا۔حضرت محمد (ﷺ) نے نہ صرف پوری ذمہ داری کے ساتھ اسلام کے بنیادی عقیدہ، عقیدہ تو حید کو قائم کیا اور دیگر بنیادی اخلاقی ضوابط کی تعیین بھی فرمائی بلکہ آپ نے اس عقیدہ کی دعوت و تبلیغ میں بھی کلیدی کردارادا کیا اور اسلامی عبادات کی کماحقہ توضیح کی۔Edward Gibbon حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بے پناہ دماغی اور ذہنی صلاحیتوں کا ان الفاظ میں اعتراف کرتا ہے: "His (i۔e۔, Muhammad's) memory was capacious and retentive, his wit easy and social, his imagination sublime, his judgment clear, rapid and decisive۔He possessed the courage of both thought and action; and۔۔۔the first idea which he entertained of his divine mission bears the stamp of an original and superior genius۔" (Edward Gibbon: The History of the Decline and Fall of the Roman Empire, John Murray, Albemarle St۔London 1855, vol۔6, p۔335۔) یعنی آپ کا حافظہ وسیع اور تیز تر ، آپ کا فلسفہ آسان اور عام فہم، آپ کا تصور اعلیٰ واکمل ، آپ کا فیصلہ بالکل صاف اور واضح ، تیز اور درست، آپ کو قول اور فعل دونوں کی جرات یکساں عطا کی گئی تھی اور۔۔۔اپنے الوہی مشن کے بارہ میں پہلا نظریہ جو آپ نے قائم کیا وہ ایک حقیقی اور بلند تر سوچ کی حامل ہستی کی طرف سے ہونے کا ثبوت اپنے اندر رکھتا تھا۔پھرا بن وراق کے اس اعتراض کی دھجیاں بھی نہیں ملتیں جب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال کے بعد خدا تعالیٰ نے جن خلفاء راشدین کے ذریعہ تمکین دین کی وہ سب بھی حافظ قرآن تھے۔اگر