اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 351 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 351

حفاظت قرآن کریم پر متفرق اعتراضات 351 تحریف و تبدیل کرتا۔صاف ظاہر ہے کہ جو کام خدا کے ہاتھ سے ہوتا ہے وہ بڑا ہی بابرکت ہوتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم۔صفحہ 405 مطبوعہ ربوہ ) ایک اور جگہ فرماتے ہیں:۔اگر تمام دنیا میں تلاش کریں تو قرآن مجید کی طرح خالص اور محفوظ کلام الہی کبھی نہیں مل سکتا۔بالکل محفوظ اور دوسروں کی دستبرد سے پاک کلام تو صرف قرآن مجید ہی ہے۔روئے زمین پر ایک بھی ایسی کتاب نہیں جس کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ کریم نے کیا ہو اور جس میں انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكَرَوَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ (الحجر: ۱۰) کا پُر زور متحد یا نہ دعولی موجود ہو۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 338 مطبوعہ ربوہ) قرآن کریم وہ یقینی اور قطعی کلامِ الہی ہے جس میں انسان کا ایک نقطہ یا ایک شعشہ تک دخل نہیں اور وہ اپنے الفاظ اور معانی کے ساتھ خدا تعالیٰ کا ہی کلام ہے اور کسی فرقہ اسلام کو اس کے ماننے سے چارہ نہیں۔اس کی ایک ایک آیت اعلیٰ درجہ کا تواتر اپنے ساتھ رکھتی ہے۔وہ وحی متلو ہے جس کے حرف حرف گنے ہوئے ہیں۔وہ باعث اپنے اعجاز کے بھی تبدیل اور تحریف سے محفوظ ہے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 384 ) اب تک ہم قرآن کریم کی حفاظت کے پہلو کا تاریخی اور منطقی نقطہ نظر مطالعہ کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ قرآن کریم میں چھوٹی یا بڑی کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی راہ نہیں پاسکی۔قرآن کریم کا اصل متن تمام تر حفاظت کے ساتھ بعینہ اسی حالت میں ہم تک پہنچا ہے جس حالت میں یہ متن رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نازل ہوا اور جس حالت میں آپ نے صحابہ کے سپرد کیا۔اس ضمن میں ابن وراق کے اُٹھا گئے اعتراضات کی قلعی بھی کھل گئی۔یہ ذکر گزر چکا ہے کہ اس کتاب کا مقصد عام قاری کے دل میں حفاظت قرآن کے بارے میں شک پیدا کرنا ہے۔چنانچہ ابن وراق مذکورہ بالا اعتراض کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ گویا حفاظت قرآن کے معاملہ میں امت مسلمہ میں بھی شکوک و شبہات ہیں اور ابتدائی زمانہ اسلام سے لے کر آج تک مسلمان ان شکوک میں گرفتار ہیں۔اب بھی مسلمانوں میں دو مختلف قرآن رائج ہیں اور اہل تشیع کو بھی قرآن کی حفاظت کے معاملہ میں شک ہے۔گویا قاری کو یہ سمجھایا جارہا ہے کہ اگر تمہیں کوئی شک نہیں ہے تو یہ حیرت کی بات ہے۔تمہیں کچھ خبر ہی نہیں کہ محافظت قرآن کریم کے بارہ میں سارا عالم اسلام تو شکوک وشبہات کا شکار ہے اور تم بھولے بادشاہ اسے محفوظ سمجھے بیٹھے ہو۔