اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 352
الذكر المحفوظ 352 حفظ قرآن کریم پر اعتراض Both Hugronje and Gulliaume point to the mindless children are forced to learn either parts of or the way entire Koran (some 6,200 odd verses) by heart at the expense of teaching children critical thought: "[The Children] accomplish this prodigious feat at the expense of their reasoning faculty, for often their minds are so stretched by te effort of memory that they are little good for serious thought۔(Ibn Warraq: Why I am Not A Muslim, Prometheus Books, New York, 1995, under heading; The Koran: Pg 105) ہم آواز معترضین کے حوالہ سے درج کیے جانے والے ابن وراق کے اس اعتراض کا لب لباب یہ ہے کہ سارا قرآن کریم فضول طریق پر بچوں کو زبانی یاد کروایا جاتا ہے۔اس کوشش سے بچے کا ذہن متاثر ہوتا ہے اور وہ کسی قابل ذکر سنجیدہ کام کے قابل نہیں رہتا اور معاشرے میں مفید وجود بننے کی بجائے ناکارہ وجود بن کر رہ جاتا ہے۔یہ اعتراض بھی اندھے حسد اور تعصب کا نتیجہ ہے۔یہ ایک جانی مانی حقیقت ہے کہ انسانی قومی ورزش اور مشق سے مضبوط اور قوی ہوتے ہیں اور جتنا استعمال کیا جائے ان کی صلاحیت میں اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے۔ہم عربوں کے حافظہ کا ذکر کر آئے ہیں۔اس غیر معمولی حافظہ کی ایک بڑی وجہ تحریر کا رواج نہ ہونے کی وجہ سے حافظہ پر زیادہ انحصار اور حفظ کرنے کیا زیادہ مشق تھی۔اس دور میں عربوں کو ہزاروں کی تعداد میں نسب نامے اور اشعار اور ادب پارے یاد ہوتے تھے۔جوں جوں لکھنے کا رواج عام ہوتا گیا تو عربوں نے بھی بجائے حافظہ پر زور دینے کے تحریر پر زور دینا شروع کر دیا اس لیے حافظہ پہلے جیسا نہ رہا۔پس ابنِ وراق برائے اعتراض ایک ایسی بات کر رہا ہے جو قوانین قدرت کے بھی خلاف ہے اور صدیوں کے جانے مانے حقائق کو بھی جھٹلا رہی ہے۔وہ قوم جسے ہزاروں ہزار شعر یاد ہوتے ، جو نسب ناموں کو از بررکھتی، جسے اپنی صدیوں کی تاریخ حفظ ہوتی، کیا قرآن کریم جیسی ایک با ربط ، منتظم، اور آسانی سے یاد ہو جانے والی کتاب سے اس کی ذہنی صلاحیتوں پر اثر پڑنا تھا؟ قوت حفظ کی زیادہ مشق سے ہی تو اُن کا حافظہ غیر معمولی ہوا تھا۔اور قرآن کریم جیسے مرتب کلام کے حفظ سے تو بہت صحت مند مشق ہوتی ہے اور حافظہ کی صلاحیت بہت بڑھ جاتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تمام قومی انسانیہ کا قیام اور بقا محنت اور ورزش پر ہی موقوف ہے۔اگر انسان ہمیشہ آنکھ بند رکھے اور کبھی اس سے دیکھنے کا کام نہ لے تو جیسا کہ تجارب طبیہ سے ثابت ہو گیا ہے)