اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 337 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 337

حفاظت قرآن کریم بر متفرق اعتراضات 337 جب کوئی اُسے بتائے کہ میاں یہ جگہ تو بہت خوبصورت ہے تو وہ کہہ دے کہ تم غلط کہہ رہے ہو کیونکہ مجھے تو کوئی خوبصورتی نظر نہیں آتی۔پس ثابت ہوا کہ اس لالہ زار میں کوئی خوبصورتی ہے ہی نہیں۔پھر تو یہی کیا جاسکتا ہے کہ میاں ہماری بات کا یقین نہیں ہے تو اوروں سے پوچھ لو جو اس حسن کا خود مشاہدہ کر چکے ہیں۔لیکن اگر وہ اندھا ابن وراق ہو تو ایک اور مشکل پیش آجاتی ہے۔وہ بجائے آنکھ والوں سے پوچھنے کے کسی دوسرے اندھے کے پاس چلا جاتا ہے اور اس سے پوچھنے لگتا ہے کہ تم بتاؤ وہاں تم نے کوئی حسن دیکھا ہے۔ابن وراق بھی عربی کے حسن ترتیب کا انکار کرتے ہوئے یہی ثبوت دیتا ہے کہ دیکھ لوفلاں فلاں عربی سے نابلد انسان بھی قرآن کریم کا حسن بیان نہیں دیکھ سکا۔قرآن کریم کی حسنِ ترتیب پر بات ترتیب قرآن کے باب میں کی گئی ہے۔یہاں صرف تحریف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے یہی عرض ہے کہ جب تمہیں اپنی جہالت کی وجہ سے دو آیات کا باہمی ربط نظر نہیں آتا تو اہل علم سے پوچھ لیا کرو۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: فَاسْتَلُوا أَهْلَ الذِكر ان كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (النحل : 44) یعنی اگر کسی معاملے میں سمجھ نہ آئے تو اس علم کے ماہرین سے پوچھ لیا کرو۔پس ہم ابن وراق کو یہی فلسفہ پھر سمجھاتے ہیں جو ان کی سمجھ میں نہیں آتا اور ان کے لیے بہت ہی مشکل اور گہرا واقع ہوا ہے کہ صاحب ! اگر قرآن کریم کا حسنِ بیان عربی زبان سے عدم واقفیت کی وجہ سے آپ کے بس کا روگ نہیں ہے تو پھر ان گواہیوں پر اعتبار کر لو جو اُس دور کے اہل زبان دے چکے ہیں۔قرآن کریم کی تفسیر میں ہزاروں ہزار صفحات لکھے گئے ہیں جن میں اس کے معجز نما ربط کا بھی بیان ہے اور زبان کی شیرینی کا بھی۔جو شخص اتنی سی بات نہیں سمجھ سکتا کیسے ممکن ہے کہ وہ قرآن کریم کی آیات کے گہرے باہمی ربط کو سمجھ سکے؟ آخر یہ فلسفہ اتنا گہرا تو نہیں کہ سمجھ میں ہی نہ آئے کہ جو شخص عربی نہیں جانتا وہ عربی زبان کے حسن کا خود مطالعہ نہیں کرسکتا۔ایسے شخص کے لیے کلام کے حسن کو سمجھنے کے لیے اس زبان کے ماہر کی خدمات لینا ضروری امر بن جاتا ہے اور ہم گزشتہ سطور میں تکرار کے ساتھ بیان کر چکے ہیں کہ ابنِ وراق کی مشکل حل کرنے کے لیے علامہ سیوطی کی گواہی کافی ہے۔خارجیوں کا ذکر کرنے کے بعد ابن وراق اہل تشیع کے حوالہ سے شبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے: Shiites, of course, claim that Uthman left out a great many verses favorable of Ali for political reasons۔یقیناً اہل تشیع کا بھی دعوی ہے کہ (حضرت) عثمان نے بہت سی ایسی آیات جو کہ ( حضرت ) علی کی مؤید تھیں محض سیاسی وجوہات کی بنا پر چھوڑ دی ہیں۔یہ کہنا بالکل جھوٹ اور دجل ہے کہ اہل تشیع کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔شیعہ ہرگز ایسا عقیدہ نہیں رکھتے بلکہ اس کو کلیۂ رڈ کرتے ہیں۔اکابر علماء شیعہ جن کے اقوال و تحقیقات کے محور پر آسمان تشیع کی