اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 336
الذكر المحفوظ 336 کہ قرآن کریم بعینہ وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے امت کو ملا تھا، یہ ذکر گزر چکا کہ حضرت عثمان کے عہد خلافت میں صحابہ کے اتفاق رائے سے تیار ہونے والا مصحف امام 25 ھجری کے لگ بھگ تیار ہو چکا تھا اور اس کی نقول بلاد اسلامیہ میں اشاعت کی غرض سے بھجوائی جا چکی تھیں وہ آج بھی موجود ہے۔جبکہ حضرت ابوبکر کے دورِ خلافت میں صحابہ کی گواہی سے تیار ہونے والا مصحف ام مروان بن عبد الملک کے دور تک یعنی 50 هجری تک موجود رہا ہے۔گویا یہ دونوں نسخے 25 سال تک اکٹھے موجود رہے ہیں۔کسی دوست یا دشمن نے کبھی یہ اعتراض نہیں کیا کہ مصحف امام میں ایسی کوئی آیات موجود ہیں جو مصحف ام میں نہیں ہیں اور نہ ہی کبھی حفاظ نے یہ اعتراض اٹھایا کہ مصحف امام میں ایسی آیات درج کی گئی ہیں جو انہوں نے پہلے کبھی نہ سنیں اور نہ حفظ کی تھیں۔حضرت عثمان کے دور کے صحائف آج بھی موجود ہیں۔پس اس تواتر کے ہوتے ہوئے کون محافظت قرآن کریم کے باب میں ادنی سا بھی شبہ پیدا کر سکتا ہے؟ پھر ہر زمانہ میں اختلاف مذہب کے باوجود محققین قرآن کریم کی غیر معمولی حفاظت کی گواہی دیتے آئے ہیں۔ان سب نا قابل تردید شہادتوں کے باوجود بھی یہ بات ان نام نہاد سکالرز کو سمجھ نہیں آرہی کہ تاریخی دلائل سے قرآن کریم کی صحت اور اس کے ہر ہر لفظ کا مستند ہونا ثابت ہے۔پس ان ثبوتوں کے مقابل پر یہ کہنا کہاں کا انصاف ہے کہ چونکہ اس آیت کا ربط عربی سے نابلد ایسے لوگوں کو نظر نہیں آیا جو اسلام کے خلاف دلوں میں بیجا کینہ، بغض اور تعصب رکھتے ہیں اس لیے ثابت یہ ہوا کہ فلاں آیت قرآن کریم کے اصل متن کا حصہ نہیں بلکہ الحاقی ہے اور بعد میں شامل کی گئی ہے۔یہ تو ایک بھونڈ امذاق اور تمسخر ہے۔یہ بھی تو دیکھو کہ کتنے ہی اہل علم اور اہل زبان علما ند ہی اختلاف کے باوجود قرآن کریم کے کے غیر معمولی ربط اور ترتیب اور اسلوب بیان کے اعجاز کو تسلیم کرتے آئے ہیں۔پس اُن کے مقابل پر تمہاری حیثیت ہی کیا ہے کہ تمہاری بات تسلیم کی جائے ! میاں دلائل کی رو سے ثابت کرو کہ یہ آیت بعد میں ڈالی گئی ہے۔ثبوت دو کہ پہلے یہ آیت متن قرآن میں موجود نہیں تھی اور فلاں زمانہ میں قرآن کریم میں راہ پاگئی۔یہ کیا کہ آج اُٹھ کر یہ کہ دیا جائے کہ یہ آیت قرآن کا حصہ نہیں ہوسکتی کیونکہ مجھے اس کا ربط سمجھ نہیں آرہا؟ نزول کے زمانہ میں قرآن کریم کا غیر معمولی فصاحت و بلاغت کا دعوی ہو اور اہل زبان بھی کبھی چیلنج کے جواب میں خاموش رہ کر اور کبھی بآواز بلند قرآن کریم کی فصاحت اور اس کے غیر معمولی حسنِ بیان کا اعتراف کریں لیکن ایک عربی زبان سے نابلد اُٹھ کر یہ اعتراض کر دے کہ قرآن کریم کی عبارت میں ربط و تسلسل نہیں تھا اس لیے کچھ آیات ربط پیدا کرنے کے لیے بعد میں شامل کی گئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور سے لے کر آج تک عربی جاننے والے قرآن کریم کے حسنِ بیان اور حیرت انگیز فوق البشر اسلوب کا اعتراف کرتے چلے آئے ہیں۔اگر عربی سے نابلد کوئی شخص یہ کہہ دے کہ سب جھوٹ ہے تو اس کو یہ حسن دکھانا ایسا ہی ہے جیسے کسی اندھے کا دماغ خراب ہو جائے اور وہ کسی خوبصورت لالہ زار میں بیٹھا چلا رہا ہو کہ بہت بُری جگہ ہے۔ا