اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 338
الذكر المحفوظ 338 گردش ہے قرآن کریم کی عدیم النظیر حفاظت کے قائل ہیں اور جابجا اس حقیقت کی تصریح کرتے ہیں کہ ہم قرآن مجید میں کسی قسم کی تحریف و تبدل کے قائل نہیں۔مناسب ہوگا کہ اہل تشیع کی زبان سے ہی ابنِ وراق کے اس الزام کی تردید کی جائے۔چنانچہ معروف اور اہم شیعہ کتاب مجمع البیان میں لکھا ہے: فاما الزيادة فيه فجمع على بطلانه و اما النقصان منه فقد روى جماعة من اصحابنا و قوم من حشوية العامة ان فى القرآن تغييرا و نقصانا و الصحيح من مذهب اصحابنا خلافه و هو الذي نصره المرتضى قدس الله روحه و استوفى الكلام فيه غاية الاستيفاء في جواب المسائل الطرابلسيات و ذكر في مواضع ان العلم بصحه نقل القرآن كالعلم بالبلدان والحوادث الكبار و الوقائع العظام والكتب المشهورة و اشعار العرب المسطورة فان العناية اشتدت والدواعى توفرت على نقله و حراستـه و بـلـغـت الى حد لم يبلغه فيما ذكرناه لان القرآن معجزة النطوة و ماخذ العلوم الشرعية والاحكام الدينية علماء المسلمين قد بلغوفي حفظه و حماية الغاية حتى عرفو كل شيء اختلف فيه من اعرابه و قرائته و حروفه و آياته فكيف يجوز ان يكون مغيرا او منقوصا العناية الصادقة و الضبط الشديد (ابوالفضل بن الحسن الطبرسي: مجمع البيان الجزء الاول: الفن الخامس صفحه 15 : الناشر مكتبه علميه الاسلاميه (ملتان) جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ قرآن کریم میں کچھ اضافہ ہوا ہے تو یہ بات سب کے نزدیک غلط ہے۔باقی رہی کمی کی بات تو اگر چہ ہماری (اہل تشیع ) جماعت میں سے ایک گروہ نے اور اہلِ سنت میں سے حشویہ روایت کیا ہے کہ قرآن کریم میں تغیر اور کمی ہوگئی ہے لیکن ہمارے فرقہ کا صحیح مذہب اس کے خلاف ہے اور حضرت سید علی مرتضی قدس اللہ روحہ نے اسی کی تائید کی ہے اور مسائل الطرابلسیات کے جواب میں اس پر نہایت مفصل بحث کی ہے۔سید ناعلی نے متعدد مواقع پر فرمایا ہے کہ قرآن کی صحت کا علم ایسا ہی ہے جیسا شہروں کا علم اور بڑے بڑے واقعات اور مشہور کتاب اور عرب کے مدون اشعار کا علم کیونکہ قرآن کی نقل اور حفاظت کے اسباب کثرت سے موجود اور مہیا تھے اور اس حد تک پہنچے ہوئے تھے کہ کسی اور چیز کے سنے نہیں گئے۔اس لیے قرآن نبوت کا معجزہ اور علوم شرعیہ اور احکام دینیہ کا مآخذ ہے اور مسلمان علمانے اس کی حفاظت اور حمایت میں انتہا درجہ کی کوشش کی۔یہاں تک کہ قرآن کے اعراب، قراءت،