اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 334
334 الذكر المحفوظ of these sources must have proved an effectual check upon any attempt or suppression۔(William Muir, Life of Mohamet, London, 1894, Pg: 558-559) کسی بھی پرانی اور معتبر روایت سے ذرہ بھر شک کرنے کی وجہ پیدا نہیں ہوتی کہ حضرت عثمان نے اپنے دعوی کی تائید میں قرآن شریف میں ایک ذرہ بھی تصرف کیا ہو۔اس میں شک نہیں کہ متاخرین شیعوں نے یہ غلط بات گھڑ رکھی ہے کہ حضرت عثمان نے بعض سورتیں اور آیات جو حضرت علیؓ کے حق میں تھیں، عمداً قرآن میں درج نہ کرنے دی تھیں۔لیکن شیعوں کی یہ بات بالکل قابل اعتبار نہیں۔۔۔حضرت عثمان کے تدوین قرآن کے وقت ابھی ہزار ہا ایسے حفاظ صحابہ زندہ تھے جنہوں نے وقت نزول سے ہی قرآن شریف کو سن کر حفظ کر لیا ہوا تھا اور اگر حضرت علیؓ کے حق میں کوئی ایسی سورت یا آیت ہوتی تو ضرور اہل خانہ اور ہزار ہا دیگر ایسے لوگوں کے پاس محفوظ ہوتی جو حضرت علی کے ساتھ اخلاص اور تعلق رکھتے تھے۔یہ دونوں ذرائع ایسی جسارت یا تصرف کو ثابت کرتے اور مؤثر انداز میں اس کی روک تھام کرتے۔اس جواب کے ساتھ ساتھ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ذیل میں یہ آیات ترجمہ کے ساتھ درج کر دی جائیں۔قاری خود فیصلہ کر لے کہ کہاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حق تلفی کی بات ہورہی ہے۔ص فَمَا أُوتِيتُم مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَمَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ وَّ اَبْقَى لِلَّذِينَ آمَنُوا ج وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ وَ الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَّرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَ إِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ O وَ الَّذِينَ اسْتَجَابُو لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ من وَأَمُرُهُمُ شُورَى بَيْنَهُمُ ص وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (آیات 37 تا 39) ترجمہ : اور جو کچھ بھی تم کو دیا گیا ہے وہ ورلی زندگی کا سامان ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ مومنوں اور اپنے رب پر توکل کرنے والوں کے لیے زیادہ اچھا اور زیادہ باقی رہنے والا ہے اور (ان کے لیے ) جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں اور جو اپنے رب کی آواز کو قبول کر لیتے ہیں اور نمازیں باجماعت ادا کرتے ہیں اور ان کا طریق یہ ہے کہ اپنے ہر معاملہ کو باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔اب ان آیات میں کہاں سیاسی نوعیت کی ہیرا پھیری ہے؟ صاف اور سیدھا سادا مضمون ہے۔مومنوں کو تعلیم دی جارہی ہے کہ اگر اعلیٰ درجہ کے مومن بنتا ہے تو تمہیں چاہیے کہ ان ان خصوصیات کے حامل بنو۔