اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 335 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 335

حفاظت قرآن کریم پر متفرق اعتراضات 335 رض پھر ایک سوال یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے کیوں اس نسخہ پر کوئی اعتراض نہ کیا ؟ حالانکہ آپ نے تو خود بھی قرآن جمع کیا تھا اور حافظ قرآن بھی تھے۔پس آپ کو بکلی اتفاق تھا اور تسلی تھی جس کا نہج البلاغہ میں درج آپ کے خطبات میں بار بار ذکر ملتا ہے۔پھر یہ بھی غور طلب بات ہے کہ حضرت عمر با وجود انتہائی اہم سمجھنے کے رجم کے ایک حکم کو تو قرآن کریم کے حاشیہ میں بھی درج نہیں کرتے کہ مسلمان اعتراض کریں گے گجا یہ کہ اتنی بہت سی آیات متن قرآن کا حصہ بنادی جائیں اور صحابہ میں سے کوئی آواز بلند نہ ہو۔پھر ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر کوئی آیت ڈالی گئی تھی تو حضرت علیؓ نے اپنے عہد خلافت میں اس کو نکال کیوں نہیں دیا؟ نیز کیوں خارجیوں نے اس آیت کے نکالنے پر اصرار نہ کیا ؟ آخر مکمل سورۃ یوسف کی نسبت چند آیات کا نکالنا زیادہ آسان تھا۔سورۃ یوسف پر تو اعتراض کر دیا مگر ان آیات پر نہ کیا۔پھر بقول ابن وراق خارجی تو حضرت علی کے پیروکار تھے۔اپنے آقا کی حق تلفی پر کیوں خاموش رہے؟ اور جب حضرت علی کا عہد خلافت شروع ہوا تو پھر ان آیات کو نکالنے میں کیا روک تھی ؟ جہاں تک اس وسوسہ کا تعلق ہے کہ بعد میں شامل کی گئی آیات میں سے دوسری قسم کی آیات وہ ہیں جو شاعرانہ تک بندیاں جوڑنے کے لیے داخل کی گئی ہیں یا ایسی دو آیات کو آپس میں جوڑنے کے لیے ڈالی گئی ہیں جن کا دراصل آپس میں کوئی تعلق نہیں بنتا۔تعجب ہے کہ یہ شاعرانہ تگ بندیاں آج ابن وراق کو تو نظر آ گئیں مگر اہل کمال عرب سخن وروں ، لبید، طفیل، ضمار از دی ، عمرو بن جموح و غیرہ کو علم ہی نہ ہوا کہ جس کلام کو وہ بلندشان اور غیر معمولی سمجھ کر کلام الہی تسلیم کر بیٹھے ہیں وہ تو ابھی غیر مربوط آیات ہیں اور آئندہ ابھی کچھ آیات شامل کرنے کے بعد اس قابل ہوگا کہ یہ مربوط کلام قرار دیا جاسکے۔پس یہ اعتراض تو محض دیوانوں اور سودائیوں کے اوہام باطلہ ہیں۔ایسے اعتراضوں کا اصولی جواب تو دیا جا چکا ہے کہ نہ تو تاریخ سے ثابت ہے کہ بعد کے زمانہ میں کوئی آیت شامل کی گئی ہو اور نہ ہی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے یہ توقع کی جاسکتی ہے اور نہ ہی خاموشی سے ایسا کرنا ممکن تھا اور نہ ہی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ اخلاق فاضلہ کی بلندیوں پر فائز صحابہ سے ایسی بددیانتی متصور ہو سکتی ہے اور نہ ہی صحابہ اور اہل زبان علما ایسی آیات کی موجودگی قرآن کریم میں تسلیم کرتے ہیں۔کسی آیت کی یا کسی حصہ کی ترتیب یا آیات کا باہمی ربط سمجھ نہ آنا ایک دیگر امر ہے اور اس کے بارہ میں یہ دعوی کرنا کہ دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ آیت بعد میں شامل کی گئی ہے امر دیگر ہے۔ہم جمع و تدوین قرآن کے بارہ میں یہ بات وضاحت سے دیکھ آئے ہیں کہ تمام تر حقائق کے مطالعہ سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم بعینہ اسی حالت میں محفوظ ہے جس حالت میں خدا تعالیٰ نے نازل کیا۔تمام تر آیات پر امت مسلمہ نے گواہی دی تھی کہ یہ قرآن کریم کی ہی آیات ہیں جو انہوں نے رسول کریم سے حفظ کے ذریعہ اور تحریری صورت میں حاصل کی تھیں اور پھر وہ قرآن کریم ایک نہ ٹوٹنے والے تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔چنانچہ اس بات کے ثبوت میں