اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 311
حفاظت قرآن کریم پر متفرق اعتراضات 311 متفرق اعتراضات قرآن کریم میں استعمال ہونے والے لفظ ”قل“ پر اعتراض As many have pointed out, one only need to add the imerative "say" at the beginning of the sura to remove the difficulty۔This imperative from the word "say" ocares some 350 times in the Koran, and it is obvious that this word has, in fact, been inserted by later compilers of the Koran, to remove countless similarly embarrassing difficulties۔Ibn Msood, one of the companions of the Prophet and an authority on the Koran, rejected the Fatihah and surah 113 and 114 that contain the words, "I seek refuge" as not part of the Koran۔Again at sora 6۔104 the speaker of the line "I am not your keeper" is clearly Muhammad۔۔۔۔these words are unworthy of God:" (Ibn Warraq: Why I am Not A Muslim, Prometheus Books, New York, 1995, under heading; The Koran: Pg: 106) جیسا کہ بہت سے لوگوں نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ کسی بھی سورت کے شروع میں لفظ قل“ کا اضافہ در پیش مشکلات کو دور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔قل“ کا یہ حکمیہ انداز قرآن کریم میں 350 مرتبہ اپنایا گیا ہے۔در حقیقت بہت سی معنوی مشکلات سے جان چھڑانے کے لیے یہ لفظ قرآن کریم کو جمع اور مدون کرنے والوں نے بعد میں اپنی طرف سے شامل کر دیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم پر سند مانے جانے والے صحابی رسول، ابنِ مسعودسورۃ الفاتحہ، 113 اور 114 ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کو جو قل“ کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں متن قرآن کا حصہ نہ مانتے تھے۔نیز چھٹی سورت کی آیت نمبر 104 (الانعام : 105 - مترجم ) میں "وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِحَفِيظ “ کے الفاظ سے محمد ( ﷺ ) خود مراد ہیں۔قرآن کریم کے یہ حصے خدا تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں۔اس شبہ کے جواب میں ہمارا سوال یہ ہے کہ ایسا کب ہوا ؟ گزشتہ صفحات میں تفصیل کے ساتھ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت کا نظام ایسا تھا کہ کوئی اس میں رد و بدل نہیں کر سکتا تھا اور نزول قرآن اور جمع و تدوین قرآن کے دور میں دوستوں اور دشمنوں کی خاموشی اس حقیقت پر گواہ ہے نیز ہر دور میں اہل علم بلاتمیز مذہب وعقیدہ اس