اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 310 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 310

الذكر المحفوظ 310 عیسائی پادری اور مستشرقین اعتراض کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور جہاں حفاظت قرآن کے موضوع کو لے کر بے بس ہو جاتے ہیں تو پھر جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں۔اتنی کثرت سے جھوٹ کی نجاست پر منہ مارنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔بس دونوں قرآن پیش کر دیا کریں۔ایک تحقیق گزشتہ صدی میں میونخ یونیورسٹی کے شعبہ The Institute for Koranforschung نے قرآن کریم کے چوبیس ہزار سے زائد قدیم مکمل اور نامکمل نسخے ساری دُنیا سے اکٹھے کیے تھے۔جو کہ قرآن کریم کے قدیم ترین نسخہ کی نقل سے لے کر اس دور تک ہر صدی میں اور ہر زمانہ میں پائے جانے والے نسخوں پر مشتمل تھے۔ان نسخوں پر قریباً 50 سال کی گہری تحقیق کے بعد محققین نے متفقہ طور پر یہ نتیجہ نکالا کہ تحریر کی معمولی غلطیوں کے علاوہ ان تمام قرآنی نسخوں میں آپس میں کوئی ادنی سا بھی اختلاف نہیں ہے۔افسوس کہ یہ یونیورسٹی دوسری جنگ عظیم کے دوران بمبار منٹ سے تباہ کر دی گئی مگر پیچھے یہ نہایت عمدہ تحقیق اپنی یادگار چھوڑ گئی۔محمد حمید اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ادارہ اسلامیات لاہور، صفحہ 179)-1 2- (Method of preservations of the Quran during the Prophet's time (http://www۔islam101۔com/quran/source_quran۔html) کاش ابن وراق سے پہلے کوئی اس حقیقت کو پالیتا اور افریقہ کے اس دوسرے قرآن کا کوئی نسخہ جرمنی بھجوا دیتا۔کم از کم یونیورسٹی والے اپنی 50 سالہ تحقیقات کا نتیجہ تو غلط نہ نکالتے۔اب تک ابنِ وراق نے دجل اور تلیس کی راہ سے تاریخ کو مسخ کر کے اعتراضات بنانے کی کوشش کی ہے۔ان سب اعتراضات کے بعد اب ابنِ وراق یہ تکلیف بھی اُٹھانے کے لیے تیار نہیں کہ تاریخی حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کرے بلکہ اب تعصب اور بغض میں حد سے گزرتے ہوئے محض اپنے اندازوں اور قیاس کے سہارے ایسے لچر اور بیہودہ اعتراض کرنے پر اتر آیا ہے جن کا نہ کوئی سر ہے اور نہ کوئی پیر۔اگر قاری اپنی نا واقفی اور سادگی کی وجہ سے ابنِ وراق کے تمام تر دھوکوں اور فریب کو حقیقت سمجھ بیٹھا ہے اور اس بات کا قائل ہو گیا ہے کہ تاریخی اعتبار سے قرآن کریم کی حفاظت مشکوک ہے تو اب یہ موقع ہے کہ اب اسی بنیاد پر اعتراضات پیش کیے جائیں۔چنانچہ آئندہ سطور میں ابنِ وراق کہ اعتراضوں کی نوعیت علمی اور تاریخی نہیں بلکہ محض ظنی ہے۔اب قاری کچھ ایسے اعتراضات کا سامنا کرے گا کہ قرآن کریم کا فلاں لفظ الہامی نہیں ہوسکتا۔فلاں مضمون ایسا ہے کہ خدا تعالی بیان نہیں کرسکتا۔سورتوں کی آیات کا سٹائل ایسا ہے جو بتاتا ہے کہ یہ آیات بعد میں ڈالی گئی ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔